بچوں کا اسکرین ٹائم صرف والدین کا مسئلہ نہیں، ماہرین نے ٹیک کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا
بچوں اور نوجوانوں میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کو عالمی ماہرین نے صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نقصانات سے نمٹنے کی ذمہ داری صرف والدین اور بچوں پر نہیں ڈالی جا سکتی بلکہ بڑی ٹیک کمپنیوں اور حکومتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ماہرین کے مطابق ایسی ڈیجیٹل سروسز تیار کی گئی ہیں جن کا بنیادی مقصد صارف کو زیادہ سے زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر مصروف رکھنا ہے
یہ بحث طبی جریدے لینسیٹ میں شائع ہونے والے تحقیقی سلسلے کے بعد مزید اہم ہوگئی ہے۔ محققین نے 2,790 مطالعات کا جائزہ لیا جن میں 90 لاکھ سے زیادہ افراد شامل تھے۔تحقیق میں خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں حد سے زیادہ یا مسائل پیدا کرنے والے ڈیجیٹل استعمال کو نیند میں کمی، ذہنی صحت کے مسائل، جسمانی سرگرمی میں کمی اور سماجی و جذباتی مشکلات سے جوڑا گیا ہے
یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے ماہر اور تحقیق کے شریک مصنف جے شا کے مطابق مسئلے کو صرف اس زاویے سے دیکھنا درست نہیں کہ بچے اپنا موبائل کتنی دیر استعمال کرتے ہیں یا والدین انہیں کتنا وقت دیتے ہیں ان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور کاروباری ماڈل بھی اس مسئلے کا اہم حصہ ہیں کیونکہ کمپنیوں کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ صارفین کو زیادہ دیر تک پلیٹ فارم پر رکھنا اور ان کی پسند، دلچسپی اور آن لائن سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے
ماہرین نے خاص طور پر لامتناہی اسکرول، خودکار ویڈیوز، مسلسل اطلاعات، کھیلوں جیسے انعامی نظام اور مصنوعی ذہانت پر مبنی الگورتھمز کی نشاندہی کی ہے ان نظاموں کو اس انداز میں بنایا جاتا ہے کہ صارف کے لیے سکرین سے دور ہونا مشکل ہو جائے اور اسے مسلسل نئی اور اس کی دلچسپی کے مطابق مواد دکھایا جاتا رہے بچوں اور نوعمروں کے لیے یہ صورتحال زیادہ حساس ہے کیونکہ ان کے دماغ اور فیصلہ سازی کی صلاحیت ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتی ہے
تحقیق میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ہر قسم کا اسکرین استعمال نقصان دہ نہیں مناسب اور متوازن استعمال سے تعلیم، تفریح، سماجی رابطے اور بعض صورتوں میں ذہنی آسودگی کے فوائد بھی حاصل ہو سکتے ہیں مسئلہ اس وقت زیادہ سنگین ہوتا ہے جب ڈیجیٹل سرگرمی اس حد تک بڑھ جائے کہ نیند، جسمانی سرگرمی، تعلیم، خاندان اور حقیقی زندگی کے سماجی تعلقات متاثر ہونے لگیں
کینیڈا میں بھی نوجوانوں کے اسکرین استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا ہے شماریاتی اعداد و شمار کے مطابق 12 سے 17 سال کے نوجوانوں کا درمیانی یومیہ اسکرین ٹائم 2019 میں 2 گھنٹے سے کم تھا، جو 2023 تک بڑھ کر 5 گھنٹے یومیہ ہو گیا ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اضافے کے اثرات کو صرف والدین کی نگرانی کے ذریعے قابو کرنا مشکل ہے
ماہرین نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیک کمپنیوں کے لیے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے واضح قوانین بنائے جائیں اور کمپنیوں کو اپنے پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور کاروباری طریقوں کے لیے جواب دہ بنایا جائے کینیڈا میں مجوزہ قوانین میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی اور ٹیک کمپنیوں کی نگرانی کے لیے ایک ڈیجیٹل سیفٹی کمیشن کے قیام کی تجاویز شامل ہیں، تاہم بعض صورتوں میں ایسے پلیٹ فارمز کو استثنا دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے جو بچوں کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات ثابت کر سکیں
ماہرین کے مطابق مکمل پابندی ہر مسئلے کا حل نہیں کیونکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تعلیم، دوستوں اور خاندان سے رابطے اور تفریح کے لیے بھی مفید ہیں اصل ضرورت ایسے محفوظ پلیٹ فارمز کی ہے جہاں کمپنیوں کو بچوں کی توجہ زیادہ سے زیادہ دیر تک حاصل کرنے کے بجائے ان کی صحت اور تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرنا پڑے
نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والے ایک گروپ کی رکن کینیڈین یفان ژو نے بھی اس بات کی نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا دور رہنے والے دوستوں سے رابطے اور تعلیمی معلومات تک رسائی میں مدد دیتا ہے، لیکن مسلسل دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرنا، حقیقی سماجی رابطوں میں کمی اور آن لائن دباؤ نوجوانوں میں تنہائی اور بے چینی بڑھا سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اس مسئلے کو صرف گھر کے اندر والدین اور بچوں کے درمیان اسکرین ٹائم کے تنازع کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک وسیع عوامی صحت کے مسئلے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جس میں حکومتیں، ٹیک کمپنیاں، اسکول، والدین اور خود نوجوان سب شامل ہوں





