Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران کا امریکا کو پیغام، جنگ صرف منصفانہ مذاکرات سے ختم ہو سکتی ہے

ایران کا امریکا کو پیغام، جنگ صرف منصفانہ مذاکرات سے ختم ہو سکتی ہے

ایران نے امریکا کو واضح پیغام دیا ہے کہ جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں اور موجودہ تنازع صرف انصاف اور برابری پر مبنی مذاکرات کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر مخالفین دوبارہ فوجی محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ایران پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا، تاہم تہران اب بھی سفارت کاری اور مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کر رہا
ایرانی مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار دکھائی دے رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تنازع آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور اسے دوبارہ کھولنے کے معاملے پر ہے آبنائے ہرمز خلیج فارس سے دنیا کی توانائی کی عالمی منڈیوں تک تیل اور گیس کی ترسیل کا انتہائی اہم راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش نے صرف خطے ہی نہیں بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک ایران کی جانب سے پیش کی گئی 7 شرائط پوری نہیں کی جاتیں ان شرائط میں پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی، ایرانی تیل کے شعبے پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا شامل ہے
تہران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کو یک طرفہ شرائط مسلط کرنے اور مذاکرات کو طویل کرنے کی پالیسی ختم کرنا ہوگی ایرانی حکام کے مطابق اب اصل توجہ آبنائے ہرمز پر ہے اور اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کے بحری راستوں میں رکاوٹ ختم کرنا اور پابندیاں اٹھانا ضروری ہوگا
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی ہوئے تھے قطر دونوں ممالک کے درمیان پیغامات پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان بھی پہلے سے جاری سفارتی کوششوں کے ذریعے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات بحال کرانے کی کوشش کرتا رہا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی تجاویز کو مسترد کیا ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں مزید مذاکرات کے امکان کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ، دھمکی یا نئی پابندیوں کے تحت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا
ایران کے وزیر خارجہ نے ایک طرف مذاکرات کو جنگ ختم کرنے کا واحد راستہ قرار دیا ہے تو دوسری طرف خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادی دوبارہ فوجی کارروائی کرتے ہیں تو ایرانی ردعمل پہلے سے زیادہ سخت ہوگا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے لیکن اسے اپنی کمزوری کے طور پر پیش کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں
دریں اثنا امریکا نے یکم ستمبر کے بعد ایران پر براہ راست حملہ نہیں کیا، تاہم خطے میں اس کی فوجی موجودگی میں اضافہ جاری ہے اطلاعات کے مطابق سعودی عرب اور قطر میں مزید پیٹریاٹ میزائل نظام تعینات کیے گئے ہیں جبکہ امریکی بحری بیڑا بھی مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے ایران کی فوج نے بھی اپنے میزائلوں کی رینج میں اضافے کا اعلان کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں جانب سفارتی رابطوں کے باوجود فوجی تیاری برقرار ہے
اسی دوران ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور سرکاری ملکیتی نیشنل ایرانی آئل کمپنی کے سربراہ حمید بوورد کو قائم مقام وزیر تیل مقرر کیا گیا ہے یہ تبدیلی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور ایران کی طویل جنگ نے ایرانی معیشت اور تیل کی آمدنی پر دباؤ بڑھا دیا ہے
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے اور دوبارہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع ہوئی تو آبنائے ہرمز کا بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی فراہمی، ایندھن کی قیمتوں اور تجارت پر مزید دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے، جبکہ خلیجی ممالک بھی براہ راست یا بالواسطہ طور پر جنگ کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں
ایران کا تازہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، لیکن وہ اس عمل کو ایسی شرائط پر آگے بڑھانا چاہتا ہے جن میں دونوں جانب کے مطالبات اور مفادات کو تسلیم کیا جائے دوسری طرف امریکا کے لیے آبنائے ہرمز کو کھلوانا اور ایران پر دباؤ برقرار رکھنا بیک وقت حاصل کرنا مشکل دکھائی دے رہا ہے، جس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر گئی ہیں

قومی خبریں سے مزید