یمن میں حوثیوں کے خلاف بڑا فوجی آپریشن شروع، سعودی عرب میں ہنگامی اجلاس
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومت نے حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا ہے یمنی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے اعلان کیا کہ فوجی کارروائی کا مقصد حوثیوں کے قبضے سے باقی ماندہ علاقوں کو واپس لینا اور پورے ملک میں ریاستی اداروں کی عمل داری بحال کرنا ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اہم ہنگامی اجلاس ریاض میں ہو رہا ہے پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حالیہ حملوں اور خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر غور کیا جائے گا ترکیہ کی جانب سے بھی وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور فوج کے سربراہ سمیت اعلیٰ حکام اجلاس میں شریک ہو رہے ہیں
یمن کی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے خلاف کارروائی اس وقت شروع کی گئی جب کشیدگی کم کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں سعودی عرب اس کارروائی میں یمنی فورسز کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ منصوبے کے مطابق زمینی لڑائی میں یمنی فوج اور فضائی کارروائیوں میں سعودی طیارے اہم کردار ادا کریں گے امریکی حکام بھی سعودی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس معاونت فراہم کر رہے ہیں
گزشتہ دنوں لڑائی میں تیزی اس وقت آئی جب حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض اور مشرقی علاقے خریص میں سعودی توانائی کمپنی آرامکو کے مقامات کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا دوسری جانب حوثی ذرائع کے مطابق سعودی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعا پر درجنوں حملے کیے تاہم بعض حملوں اور نقصانات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی
حوثیوں نے گزشتہ ماہ تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں کے بڑے حصے اور باب المندب آبنائے کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا باب المندب دنیا کی اہم تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے اور اس کے ذریعے بحیرہ احمر سے بحری جہاز بحر ہند کی جانب جاتے ہیں اس علاقے میں لڑائی بڑھنے سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر بھی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے
یمن میں حوثیوں نے 2014 میں دارالحکومت صنعا پر قبضہ کیا تھا اس کے بعد سعودی عرب نے 2015 میں عرب اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی مداخلت کی۔ 2022 میں فریقین کے درمیان جنگ بندی کے بعد کئی سال تک نسبتاً سکون رہا، لیکن رواں سال ایران جنگ کے پس منظر میں حوثیوں کے سعودی اہداف اور بحری جہازوں پر حملوں کے بعد دوبارہ شدید لڑائی شروع ہو گئی
حالیہ لڑائی میں طائز کا محاذ بھی انتہائی اہم بن گیا ہے حوثیوں نے اس علاقے میں سرکاری فورسز کے خلاف شدید مزاحمت کی ہے، جبکہ یمنی حکومت طائز اور بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے دونوں جانب سے بڑی تعداد میں جنگجوؤں کی ہلاکتوں کے دعوے سامنے آئے ہیں، تاہم مختلف فریقوں کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق ہے
جنگ میں شدت نے یمن کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید خراب کر دیا ہے عالمی خوراک پروگرام کے مطابق یمن کی تقریباً 3 چوتھائی آبادی اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہے نئی فوجی کارروائی اور بحیرہ احمر کے اہم راستوں پر کشیدگی میں اضافے سے خوراک، ایندھن اور امدادی سامان کی رسد مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے
ریاض میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اجلاس کو اسی بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے اجلاس میں حوثیوں کے حملوں، سعودی عرب کی سلامتی، یمن کی صورتحال اور تینوں ممالک کے دفاعی تعاون کے آئندہ لائحہ عمل پر بات چیت متوقع ہے پاکستان نے پہلے ہی سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مملکت کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا ہے





