کیا پاک فوج کی سمت تبدیل ہو رہی ہے ؟ نئی تقرریاں کیا اشارہ دے رہی ہیں۔ اسٹیٹس کو برقرار رہے گا یا بڑی تبدیلیاں ہوں گی، فیصلہ جلد ہو گا
رپورٹ : احمد وقاص ریاض ۔ پاک فوج میں دو روز قبل گیارہ میجر جنرلز کو لیفٹیننٹ جنرلز کے عہدوں پر ترقی دی گئی۔ ترقی پانے والوں میں سابق ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس واجد عزیز بھی شامل ہیں جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے انتہائی قریب بتائے جاتے ہیں تاہم پرموشن کے بعد انکی تعیناتی جی ایچ کیو میں بظاہر ایک کم اہم عہدے پر کی گئی ہے جو عسکری مبصرین کیلئے اچنبے کا باعث ہے ۔ اس سے قبل فیلڈ مارشل کے دوسرے قریبی ساتھی سابق ڈی جی سی میجر جنرل فیصل نصیر کو اگلے رینک پر ترقی دیئے بغیر نیکٹا میں لگا دیا گیا ہے جہاں وہ فلحال وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ کی ماتحتی میں کام کریں گے۔ ریاست اور فوج کے خیر خواہوں کیلئے یہ امر باعث اطمینان ہے کہ طویل عرصے کے بعد پاک فوج میں ایک دو نام چھوڑ کر تمام ترقیاں اور تقریاں میرٹ پر ہوئی ہیں۔ وائس آف جنرل اسٹاف الفا اور براوو دونوں قابل اور پروفیشنل آفیسر ہیں جن میں سے ایک لیفٹیننٹ جنرل عمر بشیر کو کور کمانڈر لاہور تعینات کیا گیا ہے، ماضی میں اس عہدے پر لگنے والوں کی اکثریت کی توجہ عسکری معاملات سے زیادہ سیاسی میل جول ، حکومتی امور اور ڈی ایچ اے پر مرکوز رہتی تھی۔اِسی طرح چیف انسٹرکٹر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، کمانڈنٹ اسٹاف کالج کوئٹہ اور کمانڈنٹ ملٹری اکیڈمی کاکول کی لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ قابلیت اور متعلقہ امور میں تجربے کو ذاتی پسند ناپسند یا سیاسی عزائم پر ترجیح دی گئی ہے۔ پشاور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عمر احمد بخاری کو فوج کے انتہائی اہم عہدے پر بطور سی جی ایس تعینات کیا گیا ہے۔ ترقی پانے والوں میں لیفٹیننٹ جنرل ندیم اشرف بھی شامل ہیں جنکے دو بھائی ماضی میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ، ان میں سے ایک بھائی وسیم اشرف سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی دوسری ٹرم کے خاتمے سے چند دن قبل ریٹائر ہو گئے تھے جنکے بعد سید عاصم مُنیر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے 29 نومبر 2022 کو آرمی چیف کے عہدے پر فائز کیا تھا۔ نئی پرموشنز کے ساتھ پاک فوج کی کمان کے متعدد کور کمانڈرز بھی تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔ کوئٹہ کے کور کمانڈر جنکی توجّہ صوبہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی سے زیادہ گولف اور دوسرے معاملات پر تھی انکو فارغ کر کے ایک قابل افسر لیفٹیننٹ جنرل عنایت حسین کو وہاں تعینات کیا گیا ہے۔ پروموٹ ہونے والے اکثر جنرلز ملک کے شورش زدہ صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں ڈویژن اور ایف سی کمانڈ کر چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں پاکستان کی فوج میں مزید تقرریاں تبادلے متوقع ہیں ۔ ایک سینئر کور کمانڈر کو چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی طرف سے نام بھجوانے کی صورت میں وائس آرمی چیف کے عہدے پر فائز کیا جا سکتا ہے جبکہ نئے پروموٹ ہونے والوں میں سے کسی ایک لیفٹیننٹ جنرل کو موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تبدیلی کی صورت میں اس پوسٹ پر لگایا جا سکتا ہے۔ عسکری امور کے بعض ماہرین کا خیال ہے کہ فوج میں حالیہ مثبت تبدیلیاں ادارے کی عوام میں ساکھ بحال کرنے کیلئے کی جا رہی ہیں اور بہت جلد ایسے اقدامات کیئے جائیں گے جن سے ملک میں جاری شورش اور سیاسی انتشار کا خاتمہ ہو جائے گا، اور معیشت کا پہیہ دوبارہ سے چلنا شروع ہو جائے گا ۔






