صہیونیت کو نسل پرستی قرار دینے پر اسرائیل نے برطانوی گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی پر پابندی لگا دی
اسرائیل نے برطانیہ کی گرین پارٹی کے سربراہ زیک پولانسکی کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے،یہ اقدام گرین پارٹی کے ارکان کی جانب سے صہیونیت کو نسل پرستی کی ایک شکل قرار دینے والی قرارداد منظور کیے جانے کے بعد کیا گیا ہے
اسرائیلی وزارت خارجہ نے قرارداد کو ’’واضح یہود مخالف متن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جائز سیاسی بحث کی حدود سے بھی آگے نکل گئی ہے
پولانسکی نے اتوار کو ہونے والی ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا،گرین پارٹی کی منظور کردہ قرارداد میں صہیونیت کو ایسی نظریاتی سوچ قرار دیا گیا ہے جو ’’نسلی قوم پرستانہ یہودی ریاست‘‘ کی حمایت کرتی ہے،قرارداد میں تاریخی فلسطین کی پوری سرزمین میں ’’ایک واحد جمہوری فلسطینی ریاست‘‘ کے قیام کی حمایت بھی کی گئی ہے
اس قرارداد نے گرین پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں بھی اختلافات پیدا کر دیے ہیں،بعض یہودی تنظیموں نے اسے برطانیہ کی یہودی برادری کے خلاف حملہ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے
برطانیہ کے یہودی نمائندہ بورڈ اور یہودی قیادت کونسل نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صہیونیت نسل پرستی نہیں بلکہ یہودیوں کے لیے ان کے تاریخی وطن میں تحفظ کی فراہمی کی تحریک ہے،دونوں تنظیموں نے خبردار کیا کہ صہیونیت کو نسل پرستی قرار دینے سے برطانیہ کے بیشتر یہودیوں اور یہودی اداروں کو نسل پرست قرار دینے کا تاثر پیدا ہوتا ہے اور اس سے یہود مخالف نفرت میں اضافہ ہو سکتا ہے
اسرائیلی وزارت خارجہ نے گرین پارٹی کی قرارداد کو اسرائیل اور یہودیوں کے خلاف ایک سنگین مؤقف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ زیک پولانسکی کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی عائد کرنے کی بنیاد بنا ہے
گرین پارٹی کی قرارداد کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد فلسطینیوں اور یہودیوں کے لیے مساوی حقوق اور سیاسی خود ارادیت کی حمایت کرنا ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ صہیونیت کو نسل پرستی قرار دینا یہودیوں کے قومی حق خود ارادیت اور اسرائیل کے وجود کو مسترد کرنے کے مترادف ہے






