تیجانو گلوکار بوبی پلیدو کی منفرد انتخابی مہم، کوئینسیانیرا کے ذریعے لاطینی ووٹرز سے رابطہ
ٹیکساس کے معروف تیجانو گلوکار اور ڈیموکریٹ امیدوار بوبی پلیدو نے ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دینے والے لاطینی ووٹرز کو دوبارہ اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے انتخابی مہم کا منفرد طریقہ اختیار کرلیا ہے،وہ روایتی سیاسی جلسوں کے بجائے لاطینی خاندانوں کی 15ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کرکے براہ راست ووٹرز سے رابطہ کر رہے ہیں
پلیدو ٹیکساس کے 15ویں کانگریسی ضلع سے ایوان نمائندگان کی نشست حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،اس ضلع میں لاطینی آبادی بڑی تعداد میں موجود ہے اور ان کی انتخابی مہم میں یہی برادری مرکزی اہمیت رکھتی ہے
حالیہ انتخابی مہم کے دوران ایڈنبرا کے ایک ہائی اسکول فٹ بال اسٹیڈیم میں ایک 15 سالہ لڑکی نے پلیدو کو دیکھتے ہی پہچان لیا،لڑکی نے انہیں بتایا کہ چند ماہ قبل پلیدو اس کی کوئینسیانیرا میں اچانک پہنچ گئے تھے اور اپنی مشہور گیت ’’دیسویلاڈو‘‘ گا کر اسے حیران کر دیا تھا
کوئینسیانیرا لاطینی خاندانوں میں لڑکی کی 15ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والی ایک اہم تقریب ہے، جسے بچپن سے جوانی کی جانب منتقلی کی علامت سمجھا جاتا ہے،ٹیکساس کے سرحدی علاقوں میں یہ تقریبات لاطینی ثقافت کا نمایاں حصہ ہیں
پلیدو کی انتخابی حکمت عملی اسی ثقافتی تعلق کو سیاسی رابطے میں تبدیل کرنے پر مبنی ہے،ان کا کہنا ہے کہ ان تقریبات میں شرکت کرکے وہ ان خاندانوں اور نوجوانوں تک پہنچ رہے ہیں جن سے روایتی سیاسی مہمات کا رابطہ ہمیشہ مؤثر نہیں ہوتا
پلیدو کی مہم کا ایک بڑا مقصد ایسے لاطینی ووٹرز کو دوبارہ ڈیموکریٹک امیدواروں کی طرف لانا ہے جنہوں نے حالیہ انتخابات میں ٹرمپ یا ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دیا تھا،ان کی انتخابی مہم کے مطابق موسیقی اور مقامی ثقافت کے ذریعے ووٹرز سے ذاتی تعلق قائم کرنا اس کوشش کا اہم حصہ ہے
ٹیکساس میں لاطینی ووٹرز کی بڑھتی ہوئی سیاسی اہمیت کے باعث 15ویں کانگریسی ضلع کا مقابلہ دونوں بڑی جماعتوں کے لیے خاص توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے






