Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بے گھر ہوا تو کچرے کے ڈبے میں خزانہ مل گیا، دو سال میں زندگی بدلنے والے امریکی کی کہانی

بے گھر ہوا تو کچرے کے ڈبے میں خزانہ مل گیا، دو سال میں زندگی بدلنے والے امریکی کی کہانی

نیش وِل میں ایک لگژری ہائی رائز عمارت کے پیچھے کھڑے کچرے کے ایک بڑے ڈبے میں 31 سالہ کارٹر اسٹیونز کو وہ چیزیں ملتی ہیں جنہیں دوسرے لوگ بے کار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں۔ کبھی Gucci کا بیگ، کبھی BAPE کے جوتے، کبھی Louis Vuitton کی قمیض اور کبھی 65 انچ کا فلیٹ اسکرین ٹی وی
گرمی 95 ڈگری تک پہنچ چکی تھی لیکن کارٹر کے لیے یہ کچرا نہیں بلکہ ممکنہ آمدنی تھی،وہ ڈبے کے کنارے پر چڑھا، اندر جھانکا اور کیڑوں سے بچتے ہوئے کچرے میں اتر گیا،اس کا کہنا ہے کہ کبھی یہی اشیا اس کے لیے صارفیت اور خواہشات کی علامت تھیں، مگر اب وہ اسی ضائع کیے گئے سامان کو دوبارہ فروخت کرکے اپنی زندگی سنوارنے کی کوشش کر رہا ہے
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کارٹر کی کہانی امریکی خواب کی ایک غیر معمولی شکل پیش کرتی ہے،ایک وقت میں وہ بے گھر ہو چکا تھا اور زندگی تقریباً تباہ ہو گئی تھی، لیکن صرف 2 سال کے عرصے میں اس نے کچرے سے قیمتی اشیا تلاش کرکے انہیں فروخت کرنے کا کاروبار کھڑا کر لیا
کارٹر ایسے علاقوں کے ڈمپسٹرز تلاش کرتا ہے جہاں مہنگے اپارٹمنٹس اور لگژری رہائشی عمارتیں ہوں،وہاں لوگ ایسی اشیا بھی پھینک دیتے ہیں جو معمولی مرمت یا صفائی کے بعد دوبارہ فروخت کی جا سکتی ہیں،کارٹر ان چیزوں کو تلاش کرتا، ان کی حالت جانچتا اور پھر انہیں آن لائن یا دوسرے ذرائع سے فروخت کرتا ہے
اس کام میں اسے گندگی، شدید گرمی، بدبو اور کاکروچ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے،خود کارٹر کو کیڑوں سے شدید نفرت ہے اور اسے بلی کے بالوں سے الرجی بھی ہے، لیکن اس کے مطابق بہتر زندگی کی تلاش میں یہ مشکلات اس قیمت کے مقابلے میں کم ہیں جو وہ پہلے ادا کر چکا ہے
اس کی کہانی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ جس حد سے زیادہ خریداری اور صارفیت نے کبھی اسے مالی مشکلات میں دھکیلا، بعد میں اسی صارفیت کے پھینکے ہوئے سامان نے اسے آمدنی کا راستہ فراہم کیا
کارٹر کے لیے ڈمپسٹر اب صرف کچرے کا ڈبہ نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ بن چکا ہے جہاں وہ امریکی معاشرے کی بے تحاشا خریداری اور زیاں کے درمیان اپنے لیے نئے مواقع تلاش کرتا ہے
اس کی زندگی اس سوال کو بھی سامنے لاتی ہے کہ امریکی صارفیت جس رفتار سے چیزیں خریدتی اور پھینکتی ہے، کیا اسی زیاں میں ایسے لوگوں کے لیے روزگار اور دوبارہ زندگی شروع کرنے کے مواقع بھی چھپے ہوئے ہیں؟
کارٹر اسٹیونز کا جواب اپنی زندگی سے دیتا دکھائی دیتا ہے،کبھی کبھی انسان کو اپنی زندگی دوبارہ بنانے کے لیے وہیں سے آغاز کرنا پڑتا ہے جہاں دوسرے لوگ اپنی غیر ضروری چیزیں پھینک دیتے ہیں

قومی خبریں سے مزید