برمودا سے بوسٹن جانے والا اونٹاریو کا ایئر ایمبولینس طیارہ لاپتا، 6 افراد سوار
امریکی ریاست میساچوسٹس کے ساحل کے قریب اونٹاریو سے تعلق رکھنے والا ایک ایئر ایمبولینس طیارہ 6 افراد سمیت لاپتا ہوگیا، جس کی تلاش کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ نے بڑے پیمانے پر امدادی کارروائی شروع کردی طیارے میں 4 کینیڈین شہری بھی سوار تھے
طیارہ اونٹاریو میں قائم لیٹی ٹیوڈ ایئر ایمبولینس کمپنی کا تھا، جو برمودا کے ایل ایف ویڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے مریض کو لے کر بوسٹن کے لوگن انٹرنیشنل ایئرپورٹ جا رہا تھا طیارے میں 2 کینیڈین پائلٹ، 2 طبی عملے کے ارکان، ایک مریض اور اس کا ایک رشتہ دار سوار تھے
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، 3 اکتوبر کی علی الصبح طیارے کا رابطہ امریکی ساحل کے قریب پہنچنے کے دوران منقطع ہوگیا طیارہ مقررہ وقت پر بوسٹن نہیں پہنچا تو امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے سرچ اینڈ ریسکیو الرٹ جاری کیا
اطلاعات کے مطابق، پائلٹ نے دوران پرواز بجلی کے نظام میں خرابی کی اطلاع دی تھی اور اس کے بعد طیارے سے ریڈیو رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا پرواز کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے سے کچھ دیر قبل طیارے کی بلندی میں اچانک کمی آئی تھی
امریکی کوسٹ گارڈ نے طیارے کی تلاش کے لیے ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر اور سمندری کشتیوں کو روانہ کیا تلاش کا مرکز میساچوسٹس کے ساحل سے دور نینٹکٹ جزیرے کے قریب سمندری علاقے میں رکھا گیا، جہاں طیارے کے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا
لیٹی ٹیوڈ ایئر ایمبولینس کے ڈائریکٹر برائے پرواز آپریشنز کلیرنس ٹوگریٹز کے مطابق، کمپنی کا طیارے سے رابطہ اس وقت منقطع ہوا جب وہ بوسٹن کے قریب پہنچ رہا تھا کمپنی نے طیارے کی منزل پر نہ پہنچنے کے بعد فوری طور پر امریکی حکام سے رابطہ کیا ان کے مطابق، کمپنی کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ اس کے کسی طیارے سے دوران پرواز رابطہ منقطع ہوا ہے
لیٹی ٹیوڈ ایئر ایمبولینس اونٹاریو کے شہر ہیملٹن میں قائم ہے اور مختلف ممالک میں مریضوں کی ہنگامی فضائی منتقلی کی خدمات فراہم کرتی ہے لاپتا ہونے والا گلف اسٹریم جی 100 طیارہ کینیڈا میں رجسٹرڈ تھا
کینیڈا کے وزیر ٹرانسپورٹ اسٹیون میک کینن نے کہا کہ حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے انہوں نے طیارے میں سوار افراد اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا
طیارے میں سوار 6 افراد کی خیریت اور حادثے کی وجوہات کے بارے میں فوری طور پر کوئی حتمی اطلاع سامنے نہیں آئی تھی امریکی حکام کی جانب سے تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری تھیں






