ٹینیسی میں خاتون کی پھانسی ناکام، موت کی سزا کے طریقہ کار پر نئے سوالات
امریکی ریاست ٹینیسی میں بدھ کو 50 سالہ کرسٹا پائیک کی پھانسی کا عمل غیر معمولی طور پر ناکام ہو گیا،1995 میں ایک ہولناک قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی پائیک کو مہلک انجیکشن دینے کے عمل کے آغاز کے ایک گھنٹے سے زیادہ بعد بھی پھانسی کے چیمبر میں زور سے خراٹے لیتے سنا گیا، جبکہ دوا کی دوسری خوراک دیے جانے کے تقریباً 30 منٹ بعد بھی وہ زندہ تھی
پائیک کو بعد ازاں ایمبولینس کے ذریعے جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کا علاج جاری تھا،اس کے وکلا نے جمعرات کو کہا کہ انہیں اس کی موجودہ حالت کے بارے میں فوری طور پر یقین نہیں تھا،پھانسی دیکھنے کے لیے نیش وِل آنے والی مقتولہ کی والدہ مے مارٹینیز نے واقعے کو ’’ایک مکمل بدنظمی‘‘ قرار دیا
اس ناکامی کو سزائے موت کے ایک ماہر نے غیر معمولی قرار دیا، جس کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے رواں سال ہونے والی ریاست کی واحد باقی پھانسی مؤخر کر دی اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے،واقعے نے ٹینیسی میں ایک ہی دوا کے ذریعے مہلک انجیکشن دینے کے طریقہ کار پر بھی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں
پائیک نے یہ قتل 18 سال کی عمر میں کیا تھا اور اسے بدھ کو پھانسی دی جانی تھی،اگر عمل مکمل ہو جاتا تو وہ 200 سال سے زیادہ عرصے میں ٹینیسی میں پھانسی پانے والی پہلی خاتون ہوتی،تاہم پھانسی شروع ہونے سے تقریباً ایک گھنٹہ قبل ایک اپیل عدالت نے عارضی طور پر اس عمل کو روک دیا تھا
پائیک کی پھانسی بدھ کی صبح مقرر تھی، تاہم وفاقی اپیل عدالت نے آخری وقت میں اسے روک دیا،ٹینیسی حکومت نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا، جس نے بعد میں حکم امتناع ختم کرتے ہوئے پھانسی کی اجازت دے دی،تقریباً آٹھ گھنٹے کی تاخیر کے بعد رات کو مہلک انجیکشن دینے کا عمل شروع کیا گیا”
اور پھر اصل حیران کن واقعہ شروع ہوتا ہے،عدالتی اجازت ملنے کے باوجود ریاست دو خوراکیں دینے کے بعد بھی اسے ہلاک نہ کر سکی





