امیگریشن ICEمیں 5 ہزار نئی بھرتیوں کی تیاری، امریکہ میں امیگریشن کارروائیاں مزید تیز ہونے کا امکان
واشنگٹن:امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ، ICE، آئندہ چند ماہ میں مزید 5 ہزار ملازمین بھرتی کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جن میں بڑی تعداد ڈی پورٹیشن افسران کی ہوگی،یہ اہلکار غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی تلاش، گرفتاری، حراست اور ملک بدری کے مقدمات کی کارروائی میں کام کریں گے،تازہ رپورٹ کے مطابق نئی بھرتیوں سے ICE کی افرادی قوت میں تقریباً 17 فیصد اضافہ ہوگا
ٹرمپ انتظامیہ کے موجودہ دور میں ICE پہلے ہی تقریباً 11,400 افراد بھرتی کر چکا ہے، تاہم ریٹائرمنٹ، استعفوں، تبادلوں اور برطرفیوں کے باعث خالص اضافہ تقریباً 6,400 رہا،نئی بھرتیوں کے بعد ادارے کی مجموعی افرادی قوت تقریباً 29 ہزار تک پہنچنے کی توقع ہے
نئی توسیع کو صدر ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کے لیے اضافی افرادی قوت فراہم کرنے کے اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے،ICE کو کانگریس سے بڑے اضافی مالی وسائل بھی ملے ہیں، جس سے ادارے کو مزید اہلکار، حراستی سہولیات اور انفورسمنٹ آپریشنز بڑھانے کے لیے وسائل حاصل ہوئے ہیں۔ جولائی میں ICE نے تقریباً 49,571 گرفتاریاں کی تھیں، جو ریکارڈ سطحوں میں شامل ہیں
تاہم ICE کی گزشتہ تیز رفتار بھرتیوں پر سوالات بھی اٹھے ہیں۔ تقریباً 7,500 سابقہ بھرتی کیے گئے افراد ابھی مکمل پس منظر کی جانچ کے منتظر ہیں اور بعض کو اس دوران محدود نوعیت کے کام کی اجازت ہے،سابق حکام اور ایک سابق ملازم نے تیز رفتار بھرتیوں اور جانچ کے عمل پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کا کہنا ہے کہ ICE اب بھی ایسے افراد بھرتی کر رہا ہے جو ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور پس منظر کی جانچ کے معیارات برقرار رکھے جائیں گے
اس نئی بھرتی کا براہ راست تعلق گرین کارڈ ہولڈرز یا قانونی ورک پرمٹ رکھنے والے ہر شخص سے نہیں ہے،ICE کی بنیادی کارروائیاں امیگریشن قانون کے تحت ملک بدری کے قابل افراد پر مرکوز رہتی ہیں، اس لیے کسی شخص کی قانونی حیثیت، اس کا کیس، گرفتاری کا وارنٹ یا ملک بدری کا حتمی حکم الگ الگ قانونی عوامل پر منحصر ہوتا ہے





