امریکا کی کینیڈین مصنوعات پر پابندی نافذ، تقریباً 20 ارب ڈالر کی درآمدات متاثر
واشنگٹن: امریکا کی جانب سے کینیڈا سے درآمد کی جانے والی متعدد اشیا پر نئی پابندیاں منگل سے نافذ ہوگئی ہیں، جن میں مختلف الکحل مصنوعات، ڈیری اشیا اور بعض گاڑیاں شامل ہیں،یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان جاری تجارتی تنازعہ میں تازہ ترین پیش رفت ہے
نئی پابندیوں سے متاثر ہونے والی اشیا میں 800 سی سی سے بڑے پٹرول انجن والی موٹر سائیکلیں اور موپیڈ، دودھ سے حاصل ہونے والی بعض مصنوعات، شیرہ اور بڑی تعداد میں الکحل مشروبات شامل ہیں،ان میں بیئر، سائڈر، شراب، وہسکی اور ووڈکا بھی شامل ہیں، بالخصوص وہ مصنوعات جو براہ راست صارفین کے استعمال کے لیے پیک کی جاتی ہیں
امریکی ایکشن فورم کے اندازے کے مطابق پابندی کے دائرے میں آنے والی کینیڈین مصنوعات کی مجموعی مالیت تقریباً 19.9 ارب ڈالر ہے
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ تجارتی تنازعہ میں کینیڈا بالآخر امریکی مطالبات تسلیم کرلے گا، تاہم کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ وہ ایسا معاہدہ قبول نہیں کریں گے جو ان کے ملک کے مفادات کے خلاف ہو
دونوں ممالک کے درمیان محصولات اور تجارتی پابندیوں پر مذاکرات جاری ہیں،9 ستمبر کے بعد کسی نئی تجارتی پابندی میں اضافے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم موجودہ محصولات کے باعث دونوں ملکوں میں خصوصاً چھوٹے کاروبار متاثر ہورہے ہیں
امریکی حکومت کی جانب سے کینیڈین درآمدات کے خلاف یہ تازہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور اوٹاوا ایک دوسرے پر تجارتی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے لیے مذاکرات بھی جاری رکھے ہوئے ہیں





