پینٹاگون کے ڈیٹا میں بڑا سائبر حملہ، 30 لاکھ سے زائد فوجی اہلکاروں اور متعلقہ افراد کی معلومات متاثر
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے انسانی وسائل کے مرکزی ڈیٹا نظام میں کئی ماہ تک جاری رہنے والی مبینہ سائبر دراندازی کے نتیجے میں لاکھوں موجودہ اور سابق فوجی اہلکاروں اور ان سے وابستہ افراد کی ذاتی معلومات متاثر ہوئی ہیں
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق دفاعی افرادی قوت کے ڈیٹا مرکز میں ہونے والے اس واقعے سے تقریباً 27 لاکھ 60 ہزار زندہ افراد اور 2 لاکھ 94 ہزار مرحوم افراد کا ڈیٹا متاثر ہوا،متاثرہ معلومات میں سماجی تحفظ کے نمبرز اور ملازمت سے متعلق تفصیلات بھی شامل ہوسکتی ہیں
اس واقعے کی پہلی اطلاع دفاعی امور پر نظر رکھنے والے جریدے ملٹری ٹائمز نے دی تھی، جسے ایک ایسے شخص کو موصول ہونے والے اطلاع نامے سے یہ معلومات ملی تھیں جس کا ذاتی ڈیٹا متاثرہ فائلوں میں موجود تھا
ابھی یہ واضح نہیں کہ حملہ آوروں نے محکمہ دفاع کی کون سی مخصوص فائلوں تک رسائی حاصل کی اور اس کارروائی کے پیچھے کون تھا،امریکی محکمہ دفاع نے بھی واقعے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے نہیں رکھیں
دفاعی افرادی قوت کا ڈیٹا مرکز امریکی محکمہ دفاع کے لیے اہلکاروں، افرادی قوت، تربیت، مالی معاملات اور دیگر انتظامی معلومات جمع کرتا ہے،یہ معلومات صحت کی سہولیات، ریٹائرمنٹ اور دیگر سرکاری انتظامی امور کے لیے استعمال ہوتی ہیں
ماہرین کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر ذاتی معلومات کے طویل عرصے تک غیر مجاز ہاتھوں میں رہنے سے متاثرہ افراد کو مزید سائبر خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے،خاص طور پر شناخت چوری اور جعلی پیغامات کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کی کوششوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں
واقعے کی مکمل نوعیت، چوری ہونے والے ڈیٹا کی مقدار اور حملہ آوروں کی شناخت کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں





