برطانیہ میں امیگریشن مخالف تحریک کا نیا چہرہ: احتجاج یا سڑکوں پر خوف کی سیاست؟
برطانیہ میں امیگریشن کے خلاف احتجاج ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے جہاں حکومت کے لیے اصل سوال اب صرف یہ نہیں کہ مظاہرین کیا کہہ رہے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ احتجاج کس انداز میں کر رہے ہیں، کمیونٹیز سیکریٹری انجیلا رینر نے کہا ہے کہ ’’ڈینی ٹومو‘‘ کے نام سے معروف ڈینیئل تھامس کی قیادت میں ہونے والے ایسے مارچوں کو عام احتجاج کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ سیاہ لباس اور نقاب پہنے سیکڑوں افراد کا سڑکوں اور ٹرانسپورٹ مراکز کو روکنا مقامی آبادی کے لیے خوف پیدا کرتا ہے
یہ تنازعہ اس وقت مزید سنگین ہوا جب تھامس پر الزام لگا کہ اس نے انگلش چینل میں ایک ربڑ کی کشتی کو بلیڈ سے نقصان پہنچایا، جبکہ ایک امدادی کارکن اس پر موجود تھا،پولیس نے اسے گرفتار کرکے مجرمانہ نقصان پہنچانے اور پولیس کو موبائل فون کا پاس کوڈ فراہم نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں،تھامس نے مجرمانہ نقصان کے الزام سے انکار کیا ہے
تھامس کی شناخت محض ایک حالیہ مظاہرے کے منتظم کی نہیں ہے،وہ ’’پیٹریاٹ پلیٹ فارم‘‘ نامی امیگریشن مخالف تحریک کے بانی ہیں اور ماضی میں ٹومی رابنسن سے وابستہ رہے ہیں،ستمبر کے آغاز میں ڈوور میں سینکڑوں نقاب پوش افراد نے بندرگاہ کی طرف جانے والی اہم سڑکیں روکیں، جبکہ اگلے روز پورٹسماؤتھ میں تارکین وطن کی آمد کے خلاف مظاہرہ ہوا
یہاں برطانیہ کی موجودہ امیگریشن سیاست کا ایک اہم تضاد سامنے آتا ہے،ایک طرف انگلش چینل کے ذریعے چھوٹی کشتیوں پر آنے والے پناہ کے متلاشیوں کی تعداد سیاسی دباؤ کا بڑا موضوع ہے، دوسری طرف ان کی جان بچانے والے ادارے بھی سیاسی غصے کا ہدف بن رہے ہیں،آر این ایل آئی، جو رضاکارانہ بنیادوں پر سمندری جانیں بچانے کا کام کرتی ہے، کے خلاف آن لائن مہمات اور احتجاج کے باعث بعض مقامات پر کشیدگی اتنی بڑھی کہ لائف بوٹ اسٹیشن کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا
یہ صورتحال اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ مظاہرین کا نشانہ صرف حکومت یا امیگریشن پالیسی نہیں بلکہ بعض اوقات وہ امدادی کارکن بھی بن رہے ہیں جو سمندر میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں،تھامس کے خلاف کشتی کو نقصان پہنچانے کے مقدمے نے اس بحث کو احتجاج کے حق سے نکال کر عوامی تحفظ اور قانون کی عمل داری کے دائرے میں پہنچا دیا ہے
تاہم اس پوری بحث میں ایک دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،چینل کے ذریعے آنے والی کشتیوں کا مسئلہ برطانوی سیاست میں حقیقی اور مسلسل سیاسی دباؤ کا باعث ہے،اسی لیے امیگریشن مخالف گروہوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ہزاروں لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانے کا موقع ملتا ہے،تھامس کی تحریک بھی روایتی سیاسی جماعت کے بجائے سوشل میڈیا، مقامی احتجاج اور تیزی سے جمع ہونے والے کارکنوں کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی دکھائی دیتی ہے،ستمبر کے ابتدائی مظاہروں کے تجزیوں میں بھی اس ماڈل کو ایک نسبتاً چھوٹے مگر تیزی سے متحرک ہونے والے نیٹ ورک کے طور پر بیان کیا گیا ہے
اسی لیے انجیلا رینر کا بیان صرف ایک مظاہرے پر تنقید نہیں بلکہ برطانیہ میں احتجاج کی حدود پر ایک بڑی سیاسی بحث کا آغاز ہے،کسی پالیسی کے خلاف احتجاج شہری حق ہے، لیکن جب احتجاج سڑکیں بند کرنے، امدادی کارروائیوں میں مداخلت، نقاب پوش گروہوں کے ذریعے عوامی دباؤ اور ممکنہ جسمانی خطرے تک پہنچ جائے تو ریاست اسے کہاں تک احتجاج اور کہاں سے عوامی سلامتی کا مسئلہ سمجھے؟
برطانیہ کے لیے اصل چیلنج شاید یہی ہے کہ امیگریشن پر بڑھتے ہوئے عوامی غصے کو دبائے بغیر قانون کی حدود بھی واضح رکھی جائیں،کیونکہ اگر حکومت ہر سخت امیگریشن مخالف آواز کو انتہا پسندی قرار دے گی تو سیاسی غصہ مزید متبادل پلیٹ فارموں کی طرف جا سکتا ہے، اور اگر سڑکوں پر دھمکی آمیز یا خطرناک طرزعمل کو محض ’’احتجاج‘‘ سمجھ کر نظرانداز کیا جائے تو قانون کی عمل داری متاثر ہو سکتی ہے
یوں انگلینڈ کے جنوبی ساحل پر ہونے والے یہ مظاہرے صرف تارکین وطن کے خلاف احتجاج کی کہانی نہیں رہے،یہ اس بڑے سوال کی علامت بن چکے ہیں کہ جمہوریت میں غصے کی آخری حد کہاں ختم ہوتی ہے اور خوف پیدا کرنے والی سیاست کہاں سے شروع ہوتی ہے؟





