Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بنگلہ دیش ہجرتوں کا قبرستان

بنگلہ دیش ہجرتوں کا قبرستان
نو برس بعد روہنگیا نسل: خیموں میں پیدا ہونے والا مستقبل میانمار واپسی کا انتظار کیوں نہیں کرنا چاہتا

نو برس پہلے 13 سالہ اجاس خان نے میانمار کی ریاست راکھین کے مونگ ڈاؤ میں اپنا گھر چھوڑا تھا،اس کے خاندان نے دریائے ناف عبور کیا اور تین دن کے سفر کے بعد بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپ میں پہنچا،آج وہی بچہ ایک نوجوان ماحولیاتی کارکن اور روہنگیا نوجوانوں کے رہنما کے طور پر اپنی نسل کے مستقبل کی بات کر رہا ہے،اس کی کہانی دراصل اس سوال کی علامت بن چکی ہے کہ اگر ایک نسل کا پورا بچپن پناہ گزین کیمپ میں گزر جائے تو اسے کب تک صرف ’’واپسی‘‘ کے وعدے پر زندہ رکھا جا سکتا ہے؟
2017 میں میانمار میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد 7 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ روہنگیا بنگلہ دیش پہنچے تھے،آج بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد تقریباً 12 لاکھ ہے اور ان میں نصف سے زیادہ بچے ہیں،اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین برہم صالح نے 23 ستمبر کو نیویارک میں کہا کہ ایک پوری نسل جلاوطنی میں پروان چڑھ رہی ہے، جبکہ میانمار میں جاری جنگ کے باعث محفوظ، باوقار اور رضاکارانہ واپسی کے لیے حالات ابھی موجود نہیں
یہی اس بحران کا سب سے اہم اور شاید سب سے کم زیرِ بحث پہلو ہے،روہنگیا بحران اب صرف ہجرت یا عارضی انسانی امداد کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ ایک پوری نسل کی تشکیل کا مسئلہ بن چکا ہے،نو برس پہلے جو بچے اپنے والدین کے ساتھ کیمپوں میں پہنچے تھے، وہ اب نوجوان ہو چکے ہیں،ان کے لیے میانمار ایک یاد، ایک شناخت اور ایک دعویٰ ہے، لیکن ان کی تعلیم، سماجی زندگی اور سیاسی شعور بنگلہ دیش کے کیمپوں میں تشکیل پایا ہے
اور اس نسل کے سامنے سب سے بڑا خطرہ صرف غربت نہیں بلکہ وقت ہے
مئی 2026 میں اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے روہنگیا بحران کے لیے 71 کروڑ 5 لاکھ ڈالر کی اپیل کی، جو 2025 کے مقابلے میں 26 فیصد کم تھی،اقوام متحدہ نے واضح کیا کہ ضرورت کم ہونے کی وجہ سے اپیل نہیں گھٹائی گئی بلکہ اس لیے کہ دستیاب وسائل کم ہو گئے تھے،اس رقم میں خوراک کے لیے 24 کروڑ 73 لاکھ ڈالر، تعلیم کے لیے 5 کروڑ 27 لاکھ اور روزگار و مہارتوں کے لیے صرف 3 کروڑ 51 لاکھ ڈالر رکھے گئے ہیں
دوسری طرف بحران ختم ہونے کے بجائے پھیل رہا ہے،2024 کے آغاز سے تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار مزید روہنگیا میانمار کی جنگ سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں،2026 کے پہلے چھ ماہ میں مزید 5,524 نئے آنے والوں کی دستاویز بندی ہوئی،کیمپ پہلے ہی گنجان ہیں اور محدود رہائشی گنجائش نے خواتین اور بچوں کے لیے تحفظ کے مسائل مزید بڑھا دیے ہیں
خوراک کا بحران بھی اس تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے،عالمی خوراک پروگرام نے 2026 میں تقریباً 12 لاکھ روہنگیا کے لیے امداد کو ضرورت کی بنیاد پر تین سطحوں میں تقسیم کیا،انتہائی غذائی عدم تحفظ کا شکار خاندانوں کے لیے 12 ڈالر فی فرد، زیادہ متاثرہ خاندانوں کے لیے 10 ڈالر اور نسبتاً کم متاثرہ خاندانوں کے لیے 7 ڈالر ماہانہ پروگرام کے مطابق تمام روہنگیا گھرانے غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں
اس کا ایک خطرناک نتیجہ سمندری ہجرت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے،اقوام متحدہ کے مطابق 2026 میں اب تک 5,800 سے زیادہ روہنگیا خطرناک سمندری سفر پر نکل چکے ہیں اور 800 سے زیادہ افراد کے ہلاک یا لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں،گزشتہ سال بھی تقریباً 900 افراد کے سمندر میں ہلاک یا لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی تھی
یہ اعداد ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں،جب پناہ گزین کیمپ میں زندگی مسلسل غیر یقینی، تعلیم محدود، روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر اور واپسی کا راستہ بند ہو تو نوجوان نسل کے پاس مستقبل کے کتنے راستے باقی رہتے ہیں؟
بنگلہ دیش اور عالمی اداروں کا مؤقف اب بھی یہی ہے کہ مستقل حل روہنگیا کی رضاکارانہ، محفوظ، باوقار اور پائیدار واپسی ہے،لیکن اگست 2026 میں کاکس بازار میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی مشاورت میں بنگلہ دیشی حکام اور امدادی اداروں نے خود اس بات پر زور دیا کہ واپسی کے حالات پیدا ہونے تک تعلیم، ہنر، روزگار اور نوجوانوں کے لیے مواقع کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا،اقوام متحدہ کے اداروں کے مطابق روہنگیا نوجوانوں کے لیے ثانوی تعلیم، زندگی بھر سیکھنے اور اعلیٰ تعلیم تک محدود راستے موجود ہیں، مگر ضرورت کہیں زیادہ ہے
یہاں اجاس خان کی کہانی ایک ذاتی داستان سے بڑھ کر ایک پالیسی سوال بن جاتی ہے،اگر روہنگیا نوجوانوں کو صرف ’’مستقبل میں واپس جانے والے پناہ گزین‘‘ سمجھا جائے تو ان کی موجودہ زندگی، تعلیم اور صلاحیتوں میں سرمایہ کاری مسلسل مؤخر ہوتی رہے گی،لیکن اگر انہیں ایک ایسی نسل سمجھا جائے جو خواہ میانمار واپس جائے یا کسی اور جگہ زندگی شروع کرے، اپنے مستقبل کی تشکیل میں شریک ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے، تو امداد کا تصور بھی بدلنا پڑے گا
اصل المیہ یہ نہیں کہ روہنگیا اپنے گھروں سے محروم ہوئے،اصل المیہ یہ ہے کہ نو برس بعد ان کے بچے اس گھر کو صرف کہانیوں میں جانتے ہیں
اور یہی وہ مقام ہے جہاں انسانی امداد اور سیاسی حل کے درمیان خلیج خطرناک حد تک وسیع ہو رہی ہے،دنیا روہنگیا کو زندہ رکھنے کے لیے رقم فراہم کر سکتی ہے، لیکن ایک پوری نسل کو صرف زندہ رکھنا کافی نہیں،اسے تعلیم، شناخت، ہنر، تحفظ اور اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کی آواز بھی درکار ہے
جب تک میانمار میں واپسی کے لیے محفوظ حالات پیدا نہیں ہوتے، روہنگیا نوجوانوں کو انتظار میں رکھنے کی قیمت صرف ایک اور سال نہیں ہوگی،یہ ان کے بچپن، تعلیم اور مستقبل کا مزید ایک حصہ ہوگا
روہنگیا بچے اپنے گھروں سے ہزاروں میل دور بنگلہ دیش کے کیمپوں میں پلے بڑھے اور ان کے لیے گھر اب صرف یادوں میں باقی ہے، مگر بنگلہ دیش کے انہی کیمپوں میں ایک دوسری نسل کا المیہ بھی کئی دہائیوں سے زندہ ہے،قیامِ بنگلہ دیش کے وقت سے یہاں آباد بہاری خاندانوں کی تقریباً تین نسلیں اپنے ہی وطن میں بے وطنی کی زندگی گزار چکی ہیں،ان کے بچے اسی سرزمین پر پیدا ہوئے، اسی مٹی میں جوان ہوئے، مگر آج بھی بڑی تعداد خود کو مکمل شہری حقوق اور مستقل شناخت کے سوال سے دوچار پاتی ہے،پاکستان انہیں واپس بسانے کے قابل یا تیار نہیں ہو سکا اور بنگلہ دیش میں شہریت اور مکمل سماجی قبولیت کا مسئلہ بھی دہائیوں تک ان کے تعاقب میں رہا،یوں کئی نسلیں کیمپوں کی تنگ گلیوں، غربت، بے یقینی اور محدود مواقع میں گزر گئیں،روہنگیا اپنے چھوٹے ہوئے گھر کو یاد کرتے ہیں، جبکہ بہاری وہ گھر یاد کرتے ہیں جس میں رہتے ہوئے بھی انہیں اپنا گھر مکمل طور پر نصیب نہیں ہوا،یہ جنوبی ایشیا کی ان انسانی داستانوں میں سے ایک ہے جہاں ہجرت ختم ہو جاتی ہے، مگر بے وطنی نسل در نسل زندہ رہتی ہے

قومی خبریں سے مزید