’’آپ درست تھے‘‘: ایڈ ملی بینڈ کا غزہ پالیسی کے ناقدین سے اعتراف، برطانوی لیبر حکومت کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرے گی
لندن: برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ لیبر پارٹی کے ان کارکنوں اور مہم چلانے والوں سے اتفاق کرنے والے ہیں جنہوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی صورتحال پر پارٹی کی سابقہ پالیسی کو ناکافی قرار دیا تھا،وہ پارٹی کانفرنس میں خطاب کے دوران کہیں گے کہ فلسطینیوں کے مسئلے پر لیبر حکومت کا سابقہ طرزعمل کافی نہیں تھا اور پارٹی کو اس معاملے سے ایک ’’بنیادی اور وسیع تر سبق‘‘ سیکھنا ہوگا
گارڈین کے مطابق ملی بینڈ اپنی تقریر میں اسرائیلی آبادکار بستیوں کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کے حکومتی فیصلے کو لاکھوں افراد کے مطالبات کا جواب قرار دیں گے،ان کے مطابق غزہ اور فلسطین کے معاملے پر پارٹی کے اندر اٹھنے والی آوازوں نے حکومت کی پالیسی پر اثر ڈالا ہے
برطانوی وزیر خارجہ یہ بھی کہیں گے کہ اینڈی برنہم کی قیادت میں لیبر پارٹی خارجہ پالیسی کے معاملات میں زیادہ واضح طور پر ترقی پسند مؤقف اختیار کرے گی اور برطانیہ مستقبل کی سفارت کاری میں ہم خیال ممالک کے درمیان قائدانہ کردار ادا کرے گا
ملی بینڈ اپنی تقریر میں اسرائیل اور فلسطین کے معاملے کو لیبر پارٹی کی سیاسی سمت میں وسیع تبدیلی کی مثال کے طور پر پیش کریں گے،ان کے مطابق پارٹی آئندہ اپنی ترقی پسند اقدار کو اپنی کامیابی کی رکاوٹ نہیں بلکہ کامیابی کی بنیاد سمجھے گی
وہ برطانیہ کی خارجہ پالیسی کے ایک نئے اور زیادہ فعال دور کا بھی اعلان کریں گے اور کہیں گے کہ حکومت کا مقصد موجودہ صورتحال کو محض قبول کرنا نہیں بلکہ ملک کے اندر اور بیرون ملک اسے تبدیل کرنا ہے
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آرہا ہے جب غزہ جنگ اور اسرائیل کے حوالے سے لیبر پارٹی کے اندر طویل عرصے سے اختلافات موجود رہے ہیں،فلسطینیوں کے حامی کارکنوں اور پارٹی کے بعض ارکان نے حکومت سے اسرائیل کے حوالے سے زیادہ سخت اقدامات کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ حکومت کو ایک طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور دوسری جانب فلسطینی حقوق کے حوالے سے اپنے مؤقف میں توازن برقرار رکھنے کا دباؤ رہا ہے
ملی بینڈ کی متوقع تقریر اس بات کی علامت کے طور پر سامنے آ رہی ہے کہ لیبر حکومت اپنی خارجہ پالیسی کو زیادہ واضح ترقی پسند سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ غزہ اور اسرائیل فلسطین تنازعہ اس تبدیلی کے اہم حوالوں میں شامل ہوگا





