ممدانی کا 70 ہزار مفت اوپیرا ٹکٹوں کا اعلان، نیویارک میں شہری سہولت یا ’’اوپیرا سوشلزم‘‘ پر نئی بحث؟
نیویارک: نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے میٹروپولیٹن اوپیرا کے ساتھ مل کر 70 ہزار مفت ٹکٹ فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا، جس پر سوشل میڈیا پر شہریوں کی ترجیحات اور عوامی وسائل کے استعمال کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے
’’Opera for All‘‘ کے نام سے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت نیویارک کے وہ شہری جو اس سے پہلے کبھی میٹروپولیٹن اوپیرا کی کسی پرفارمنس میں شریک نہیں ہوئے، ہر ماہ ہونے والی قرعہ اندازی میں مفت ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے،پروگرام میں ’’Macbeth‘‘ اور ’’La Bohème‘‘ سمیت مختلف اوپیرا پیش کیے جائیں گے
ممدانی کے دفتر کے ترجمان نے فاکس نیوز ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس پروگرام کے لیے نیویارک سٹی حکومت ٹکٹوں کی قیمت ادا نہیں کر رہی،میٹروپولیٹن اوپیرا اپنی فروخت نہ ہونے والی نشستوں میں سے ٹکٹ فراہم کرے گا، جو ادارے کے مطابق اس کے سیزن کی مجموعی گنجائش کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہیں، جبکہ شہر کا کردار پروگرام کی تشہیر اور ٹکٹوں کی تقسیم میں تعاون تک محدود ہوگا
پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے ممدانی نے ’’La Bohème‘‘ کے فنکاروں کے ہمراہ جاری کی گئی ویڈیو میں کہا کہ ہر نیویارکر کو اوپیرا دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے، خواہ اس کی جیب میں کتنی ہی رقم کیوں نہ ہو
ممدانی نے اس موقع پر نیویارک کے سابق میئر فیوریلو لاگارڈیا کے ’’People’s Opera‘‘ منصوبے کا بھی حوالہ دیا، جس کا مقصد ماضی میں اوپیرا کو زیادہ وسیع عوامی حلقے تک پہنچانا تھا
تاہم اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ممدانی کے ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایسے وقت میں جب نیویارک کو رہائش، مہنگائی، جرائم، بے گھر افراد اور شہری خدمات جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے، میئر کی توجہ اوپیرا کے مفت ٹکٹوں پر کیوں ہے،بعض ناقدین نے طنزیہ طور پر اسے ’’اوپیرا سوشلزم‘‘ کا نام دیا
اس تنقید کے باوجود پروگرام کی مالی نوعیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق شہر 70 ہزار ٹکٹ خرید نہیں رہا،ٹکٹ میٹروپولیٹن اوپیرا کی غیر فروخت شدہ نشستوں سے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ شہری حکومت ان کی تشہیر اور تقسیم میں معاونت کرے گی
یوں ممدانی کا نیا پروگرام ایک طرف فنونِ لطیفہ کو ان نیویارکرز تک پہنچانے کی کوشش ہے جو عموماً اوپیرا ہاؤس نہیں جاتے، جبکہ دوسری طرف اس نے میئر کی شہری ترجیحات پر جاری سیاسی بحث کو ایک نئے ثقافتی محاذ تک پہنچا دیا ہےممدانی کا 70 ہزار مفت اوپیرا ٹکٹوں کا اعلان، نیویارک میں شہری سہولت یا ’’اوپیرا سوشلزم‘‘ پر نئی بحث؟
نیویارک: نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے میٹروپولیٹن اوپیرا کے ساتھ مل کر 70 ہزار مفت ٹکٹ فراہم کرنے کے منصوبے کا اعلان کردیا، جس پر سوشل میڈیا پر شہریوں کی ترجیحات اور عوامی وسائل کے استعمال کے حوالے سے بحث چھڑ گئی ہے
’’Opera for All‘‘ کے نام سے شروع کیے گئے پروگرام کے تحت نیویارک کے وہ شہری جو اس سے پہلے کبھی میٹروپولیٹن اوپیرا کی کسی پرفارمنس میں شریک نہیں ہوئے، ہر ماہ ہونے والی قرعہ اندازی میں مفت ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے،پروگرام میں ’’Macbeth‘‘ اور ’’La Bohème‘‘ سمیت مختلف اوپیرا پیش کیے جائیں گے
ممدانی کے دفتر کے ترجمان نے فاکس نیوز ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس پروگرام کے لیے نیویارک سٹی حکومت ٹکٹوں کی قیمت ادا نہیں کر رہی،میٹروپولیٹن اوپیرا اپنی فروخت نہ ہونے والی نشستوں میں سے ٹکٹ فراہم کرے گا، جو ادارے کے مطابق اس کے سیزن کی مجموعی گنجائش کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہیں، جبکہ شہر کا کردار پروگرام کی تشہیر اور ٹکٹوں کی تقسیم میں تعاون تک محدود ہوگا
پروگرام کا اعلان کرتے ہوئے ممدانی نے ’’La Bohème‘‘ کے فنکاروں کے ہمراہ جاری کی گئی ویڈیو میں کہا کہ ہر نیویارکر کو اوپیرا دیکھنے کا موقع ملنا چاہیے، خواہ اس کی جیب میں کتنی ہی رقم کیوں نہ ہو
ممدانی نے اس موقع پر نیویارک کے سابق میئر فیوریلو لاگارڈیا کے ’’People’s Opera‘‘ منصوبے کا بھی حوالہ دیا، جس کا مقصد ماضی میں اوپیرا کو زیادہ وسیع عوامی حلقے تک پہنچانا تھا
تاہم اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ممدانی کے ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایسے وقت میں جب نیویارک کو رہائش، مہنگائی، جرائم، بے گھر افراد اور شہری خدمات جیسے متعدد مسائل کا سامنا ہے، میئر کی توجہ اوپیرا کے مفت ٹکٹوں پر کیوں ہے،بعض ناقدین نے طنزیہ طور پر اسے ’’اوپیرا سوشلزم‘‘ کا نام دیا
اس تنقید کے باوجود پروگرام کی مالی نوعیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق شہر 70 ہزار ٹکٹ خرید نہیں رہا،ٹکٹ میٹروپولیٹن اوپیرا کی غیر فروخت شدہ نشستوں سے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ شہری حکومت ان کی تشہیر اور تقسیم میں معاونت کرے گی
یوں ممدانی کا نیا پروگرام ایک طرف فنونِ لطیفہ کو ان نیویارکرز تک پہنچانے کی کوشش ہے جو عموماً اوپیرا ہاؤس نہیں جاتے، جبکہ دوسری طرف اس نے میئر کی شہری ترجیحات پر جاری سیاسی بحث کو ایک نئے ثقافتی محاذ تک پہنچا دیا ہے





