Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

برلن میں بائیں بازو کی بڑی جیت، گھر بچانے کا وعدہ انتخابی سیاست کا نیا محور بن گیا

برلن میں بائیں بازو کی بڑی جیت، گھر بچانے کا وعدہ انتخابی سیاست کا نیا محور بن گیا

برلن: جرمنی کی بائیں بازو کی جماعت Die Linke نے 20 ستمبر کو ہونے والے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی، تاہم جماعت کے لیے حکومت تشکیل دینا، اتحادی تلاش کرنا اور اپنی سرکردہ امیدوار ایلف ایرالپ کو میئر بنوانا ابھی یقینی نہیں،جماعت کی انتخابی مہم کا مرکزی وعدہ برلن کے بڑھتے ہوئے رہائشی بحران سے نمٹنا اور شہر کی بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کی رہائشی جائیدادوں کو عوامی ملکیت میں لانا تھا
دی گارڈین میں شائع ہونے والے تجزیے کے مطابق Die Linke کی انتخابی مہم نے ایک بنیادی سوال کو سیاسی نعرے میں تبدیل کیا،کیا عام شہری کو اپنے ہی شہر میں رہنے کی آزادی حاصل رہے گی؟ بڑھتے کرایوں اور رہائش کی بڑھتی ہوئی لاگت کے ماحول میں جماعت نے یہ مؤقف پیش کیا کہ شہریوں کو اپنے محلے اور شہر سے بے دخل ہونے کے بجائے وہیں رہنے کا حق ملنا چاہیے
ایلف ایرالپ کی انتخابی مہم کا سب سے اہم وعدہ برلن کی بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیوں کے ہاؤسنگ اسٹاک کو عوامی ملکیت میں منتقل کرنا تھا،اس پالیسی کے ذریعے نجی کمپنیوں کے زیرانتظام بڑی تعداد میں رہائشی یونٹس کو اجتماعی یا عوامی ملکیت میں لانے کی کوشش کی جانی ہے، اگرچہ اس وعدے پر عمل درآمد کے لیے قانونی، مالی اور سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں
میڈیا رپورٹ کے مطابق Die Linke کی کامیابی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ شہری آزادی کا تصور صرف اظہار رائے یا سیاسی حقوق تک محدود نہیں بلکہ اس میں یہ صلاحیت بھی شامل ہے کہ انسان اپنے ہی شہر میں رہنے کے اخراجات برداشت کرسکے،تجزیے میں رہائش کو سیاسی آزادی اور سماجی تحفظ کے بنیادی مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا ہے
انتخابی نتائج کے فوراً بعد جماعت کے خلاف مختلف الزامات اور شدید سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا،رپورٹ کے مطابق موجودہ جرمن سیاسی ماحول میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے درمیان Die Linke کی کامیابی نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی سیاست کا مقابلہ کیسے کیا جائے
تاہم برلن کے انتخابی نتائج کو صرف نظریاتی سیاست کے تناظر میں دیکھنا مکمل تصویر پیش نہیں کرتا،رہائش، کرایوں اور شہریوں کی اپنے علاقے میں برقرار رہنے کی صلاحیت جیسے مقامی مسائل نے انتخابی مہم میں مرکزی حیثیت حاصل کی،اب اصل امتحان یہ ہوگا کہ Die Linke انتخابی کامیابی کو حکومت سازی اور اپنی ہاؤسنگ پالیسی پر عملی پیش رفت میں کس حد تک تبدیل کر پاتی ہے

قومی خبریں سے مزید