جس انتہاپسند آن لائن تحریک کو اس نے طاقت دی، وہی بعد میں اس کے خلاف پلٹ گئی، امریکی خاتون کی کہانی
سارسوٹا، فلوریڈا: آسٹریلیا سے امریکا منتقل ہونے والی ایمی ڈینجر فیلڈ نے ایک ایسے آن لائن دائیں بازو کے حلقے میں اپنا نام بنایا جو خواتین کے لیے روایتی صنفی کردار، مردوں کی بالادستی اور نسوانی آزادی کے خلاف نظریات کو فروغ دیتا تھا، مگر چند ہی برس بعد اسی تحریک نے انہیں غداری کا الزام لگا کر آن لائن حملوں کا نشانہ بنا دیا
واشنگٹن پوسٹ کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق ڈینجر فیلڈ 2017 میں امریکا آئیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے انتہائی دائیں بازو کے نظریات پھیلانے کو اپنا مقصد بنایا،انہوں نے خواتین کی مساوات اور نسوانی تحریک پر تنقید کرتے ہوئے ایسی ویڈیوز بنائیں جن میں وہ روایتی خاندانی نظام اور مردوں کے مضبوط کردار کی حمایت کرتی تھیں،ان کا یوٹیوب چینل تقریباً ایک لاکھ صارفین تک پہنچ گیا اور وہ اس آن لائن حلقے میں ایک نمایاں خاتون آواز بن گئیں
ان کی مقبولیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب وہ دائیں بازو کے مردانہ آن لائن حلقے میں شامل پوڈکاسٹ پروگراموں میں نظر آنے لگیں،2023 میں انہیں ’’Fresh & Fit‘‘ نامی پروگرام میں مدعو کیا گیا، جہاں خواتین کو مردوں کے زیراثر مباحثوں میں شامل کیا جاتا تھا،اسی عرصے میں ان کی ملاقات نک فوینٹس کے حلقے سے ہوئی اور وہ ان کے پروگراموں کو دیکھنے، مالی تعاون کرنے اور ان کے دفاع میں مواد شائع کرنے لگیں
فوینٹس کے نظریات سے متاثر ہونے کے بعد ڈینجر فیلڈ نے خواتین کی تعلیم، پیشہ ورانہ زندگی اور صنفی مساوات پر بھی سخت تنقید شروع کردی،2024 میں وہ ایک قدامت پسند میڈیا ادارے سے وابستہ ہوئیں، تاہم بعد میں اپنے شوہر ڈینیئل کے ساتھ الگ ڈیجیٹل پلیٹ فارم بنانے کے لیے وہاں سے نکل آئیں،دونوں نے فوینٹس کے انداز سے متاثر ہوکر ویڈیوز اور سوشل میڈیا مواد بنانا شروع کیا اور ڈینجر فیلڈ کی آن لائن مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ڈینجر فیلڈ کی کہانی کا ڈرامائی موڑ اس سال موسم بہار میں آیا، جب انہوں نے اوہائیو میں ’’America First United‘‘ کے نام سے ایک سیاسی اجتماع منعقد کیا،ان کا خیال تھا کہ فوینٹس کے آن لائن سیاسی حلقے کو حقیقی دنیا کی سیاسی سرگرمی میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے
مگر کانفرنس شروع ہوتے ہی فوینٹس کے حامی ان کے خلاف ہوگئے،انہیں فوینٹس کی قیادت کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والی باغی قرار دیا گیا،فوینٹس نے اپنے تقریباً ایک لاکھ ٹیلی گرام صارفین کو پیغامات میں اس سرگرمی کو اپنے خلاف وسیع سازش سے جوڑا اور سوال اٹھایا کہ اگر یہ لوگ ان کے خلاف نہیں تھے تو انہیں انہیں ہٹانے کے لیے اتنی توانائی خرچ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی
اس کے بعد ڈینجر فیلڈ کے خلاف سوشل میڈیا پر شدید مہم شروع ہوگئی،بعض اکاؤنٹس نے ان کی تحریف شدہ تصاویر اور توہین آمیز خاکے شائع کیے، جبکہ دوسرے صارفین نے ان کے خلاف جنسی نوعیت کی دھمکیوں اور جعلی مواد کا استعمال کیا،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کے شوہر نے پولیس اور وکیل سے رابطہ کیا اور ڈینجر فیلڈ نے ایک شخص کے خلاف تعاقب اور ہراساں کیے جانے سے تحفظ کا عدالتی حکم بھی حاصل کیا
ڈینجر فیلڈ نے فوینٹس کو پیغام بھیج کر وضاحت کی کہ ان کا مقصد کسی کھلی جنگ یا قیادت کے خلاف بغاوت نہیں تھا بلکہ وہ کانفرنس کو اتحاد کی کوشش سمجھتی تھیں،لیکن آن لائن حملے رکنے کے بجائے مزید بڑھ گئے
رپورٹ میں ماہرین نے اس واقعے کو انتہائی دائیں بازو کے مردانہ آن لائن حلقوں میں خواتین کے کردار کے ایک بڑے تضاد کے طور پر بھی بیان کیا ہے،سماجیات کی ماہر کیتھلین بلی کے مطابق ایسے گروہوں میں بعض خواتین کو نمایاں مقام ضرور ملتا ہے، لیکن وہ ایسے ماحول میں کام کرتی ہیں جہاں خواتین کو مجموعی طور پر کم تر سمجھنے والے نظریات بھی موجود ہوتے ہیں،ان کے مطابق خواتین کی موجودگی بعض اوقات ان تحریکوں کو زیادہ قابل قبول شکل دینے، نئے لوگوں کو متوجہ کرنے اور تنظیم کو مضبوط بنانے میں مدد دیتی ہے
دوسری جانب ڈینجر فیلڈ کے لیے اس تنازعہ کے مالی اثرات بھی سامنے آئے،واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ان کا یوٹیوب چینل پہلے تقریباً 10 ہزار ڈالر ماہانہ اشتہاری آمدنی پیدا کر رہا تھا، مگر کانفرنس کے بعد ان کی ویڈیوز کی کارکردگی نمایاں طور پر گر گئی،ان کے شوہر انہیں زیادہ اشتعال انگیز اور روزانہ سیاسی مواد بنانے پر زور دیتے رہے، جبکہ ڈینجر فیلڈ زیادہ سنجیدہ، تحقیقی اور نفسیاتی و سماجی موضوعات پر مواد بنانے کی خواہش ظاہر کر رہی تھیں
آخرکار ڈینجر فیلڈ نے کچھ عرصے کے لیے ویڈیوز سے وقفہ لے لیا،اس دوران وہ ایک الگ ملازمت کرنے لگیں اور اپنے مستقبل کے مواد کے بارے میں سوچنے لگیں،لیکن واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس وقت تک ان کے سابقہ آن لائن حلقے نے نئی خواتین اور نئے چہروں کو آگے بڑھانا شروع کردیا تھا،رپورٹ میں ان کی کہانی کو ایک ایسے ڈیجیٹل سیاسی ماحول کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے جہاں مقبولیت تیزی سے بنتی ہے، مگر اسی رفتار سے کسی شخص کو اپنے ہی حلقے سے باہر بھی کیا جاسکتا ہے





