کارنیل یونیورسٹی تقریب “ دریا سے سمندر تک‘‘ اور انتفاضہ کے نعروں سے گونج اٹھی، اسرائیل مخالف احتجاجی سیاست پھر زیر بحث
نیویارک: ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کارنل یونیورسٹی میں منعقدہ ایک تقریب اس وقت سیاسی بحث کا مرکز بن گئی جب منتظم طلبہ تنظیم کے رہنماؤں نے تقریب میں شریک تقریباً 2 ہزار افراد سے ’’From the river to the sea‘‘ کا نعرہ لگوایا
فاکس نیوز کے مطابق کارنیل یونیورسٹی کی Young Democratic Socialists of America نے اوکاسیو کورٹیز کے لیے یہ تقریب منعقد کی تھی، جسے ان کی انتخابی مہم نے ’’Students vs. Billionaires‘‘ ٹاؤن ہال قرار دیا،تنظیم کی صدر مینا پیٹرووا اور شریک چیئر زوئی ریس مین نے شرکا کی قیادت کرتے ہوئے مذکورہ نعرہ لگوایا
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل منتظمین نے ’’Long live the student intifada‘‘ کا نعرہ بھی لگایا،انتفاضہ‘‘ کا لفظ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں اور احتجاجی مہمات کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، جبکہ ’’From the river to the sea‘‘ اسرائیل فلسطین تنازعہ کے تناظر میں ایک انتہائی متنازعہ نعرہ ہے، اس کے مفہوم اور سیاسی استعمال کی مختلف تشریحات کی جاتی ہیں، جس کے باعث یہ امریکی جامعات میں شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے
پیٹرووا نے خطاب میں کارنیل یونیورسٹی کو بنیادی طور پر ایک سرمایہ دار ادارہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ یونیورسٹی طلبہ اور کمیونٹی کے مقابلے میں ارب پتیوں اور منافع کو ترجیح دیتی ہے،انہوں نے یونیورسٹی کے منتظمین پر جنگ اور غزہ میں ہونے والی کارروائیوں سے مالی فائدہ اٹھانے کا الزام بھی عائد کیا، جس پر حاضرین کی جانب سے تالیاں بجائی گئیں
ریس مین نے خود کو ’’سامراج مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی انسان کو ناقابلِ استعمال یا قربانی کے قابل نہیں سمجھا جانا چاہیے اور طلبہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا بھر میں اپنے خیال میں مظلوم لوگوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں،انہوں نے طلبہ کی مزاحمت اور ’’student intifada‘‘ کے حق میں بھی نعرہ لگایا
یہ تقریب اوکاسیو کورٹیز کی ممکنہ سیاسی مہم کے دوران منعقد ہوئی، تاہم Fox News کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ انہوں نے خود مذکورہ نعروں کی قیادت کی یا انہیں اپنی تقریر میں استعمال کیا؟رپورٹ کا مرکزی تنازعہ دراصل تقریب کی میزبانی کرنے والی طلبہ تنظیم کے رہنماؤں کے بیانات اور نعروں سے متعلق ہے
کارنیل یونیورسٹی میں اس واقعے نے ایک بار پھر امریکی جامعات میں اسرائیل فلسطین تنازعہ ،طلبہ احتجاج، آزادی اظہار اور متنازعہ سیاسی نعروں کے استعمال پر جاری بحث کو نمایاں کردیا ہے





