Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان مقامی زبانوں اور ضرورتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کیسے بنا سکتا ہے؟

پاکستان مقامی زبانوں اور ضرورتوں کے لیے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کیسے بنا سکتا ہے؟

مصنوعی ذہانت اب صرف ٹیکنالوجی کا شعبہ نہیں رہی بلکہ تیزی سے معیشت کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ بنتی جا رہی ہے قابل اعتماد اے آئی ماڈلز، کمپیوٹنگ طاقت، ڈیٹا اور تربیت یافتہ افراد تک رسائی آنے والے برسوں میں ممالک کی معاشی اور ٹیکنالوجی صلاحیت پر اثر انداز ہوگی اسی تناظر میں چین کی جانب سے برکس ممالک کے لیے مصنوعی ذہانت کا ایک مشترکہ اوپن سورس پلیٹ فارم بنانے کی تجویز پاکستان کے لیے بھی اہم موقع بن سکتی ہے
چینی صدر شی جن پنگ نے نئی دہلی میں ہونے والی برکس سربراہی کانفرنس کے دوران ایسی کمیونٹی قائم کرنے کی تجویز دی ہے جس میں رکن ممالک بڑے زبان ماڈلز کی تیاری اور استعمال، مصنوعی ذہانت کی تربیت اور ایک مشترکہ ڈیجیٹل ماحول کی تشکیل میں تعاون کرسکیں ترقی پذیر ممالک کے لیے اس طرح کا تعاون اے آئی کی معیشت میں داخل ہونے کی لاگت کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے
دنیا کے بڑے ٹیک اداروں کی طرح جدید ترین اے آئی ماڈل شروع سے تیار کرنا انتہائی مہنگا کام ہے اس کے لیے بڑی کمپیوٹنگ طاقت، مہنگے ڈیٹا سینٹرز، وسیع ڈیٹا اور ماہر افراد کی ضرورت ہوتی ہے پاکستان جیسے ممالک کے لیے پہلے سے دستیاب اوپن ویٹ ماڈلز کو اپنی زبانوں، صنعتوں اور سرکاری خدمات کے مطابق ڈھالنا نسبتاً کم خرچ راستہ ہوسکتا ہے چین کے کیوون، ڈیپ سیک، کیمی اور جی ایل ایم جیسے ماڈلز نے اس شعبے میں متبادل نظاموں کی گنجائش بڑھائی ہے
پاکستان کے لیے سب سے نمایاں مواقع میں اردو اور علاقائی زبانیں شامل ہیں موجودہ اے آئی نظام انگریزی اور بعض بڑی عالمی زبانوں کے مقابلے میں اردو اور پاکستان کی کئی علاقائی زبانوں کو کم سہولت فراہم کرتے ہیں مقامی ادارے موجودہ ماڈلز کو اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی اور دیگر زبانوں کے لیے بہتر بنا کر ترجمے، تعلیم، سرکاری معلومات اور دستاویزات کی تیاری جیسے شعبوں میں استعمال کرسکتے ہیں
زراعت میں بھی مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال ہوسکتا ہے موسم، فصلوں، سیٹلائٹ تصاویر اور مقامی معلومات کو یکجا کرکے کسانوں کو فصلوں اور موسم سے متعلق بروقت معلومات فراہم کی جاسکتی ہیں اسی طرح صحت کے شعبے میں طبی ریکارڈز کی تیاری اور انتظام، جبکہ تعلیم میں طلبہ کے لیے ذاتی نوعیت کی تعلیمی مدد اور اساتذہ کے لیے سبق تیار کرنے جیسے کاموں میں اے آئی استعمال ہوسکتی ہے
سرکاری شعبے میں بھی اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی بڑی گنجائش موجود ہے حکومت کے پاس قوانین، اعداد و شمار، عدالتی دستاویزات، انتظامی ریکارڈ اور عوامی معلومات کا بہت بڑا ذخیرہ موجود ہے اے آئی ان دستاویزات کو تلاش اور تجزیہ کرنے میں مدد دے سکتی ہے اور معمول کے کئی انتظامی کام کم وقت میں انجام دیے جاسکتے ہیں ٹیکس نظام میں مشکوک یا غیر معمولی معاملات کی نشاندہی بھی ایک ممکنہ استعمال ہے
معاشی لحاظ سے بھی پاکستان کے لیے یہ شعبہ اہم ہوسکتا ہے اگر پاکستانی کمپنیاں صرف کم اجرت والی خدمات فراہم کرنے کے بجائے مالیات، لاجسٹکس، زراعت، تعلیم اور صنعت کے لیے مخصوص اے آئی حل تیار کریں تو زیادہ قدر والی ڈیجیٹل خدمات عالمی منڈیوں میں فروخت کی جاسکتی ہیں تاہم اس کے لیے بجلی کی قابل اعتماد فراہمی، بہتر انٹرنیٹ، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور کم لاگت کمپیوٹنگ کی ضرورت ہوگی
چین اور برکس ممالک کے ساتھ تعاون کے ذریعے پاکستان مشترکہ کمپیوٹنگ سہولتوں، تکنیکی تربیت، تحقیقی منصوبوں اور مقامی صنعتوں کے لیے اے آئی نظام کی تیاری میں شراکت داری حاصل کرسکتا ہے اس کے ساتھ ڈیٹا کے تحفظ کا مسئلہ بھی اہم ہوگا حساس سرکاری اور شہری معلومات کہاں محفوظ ہوں گی، انہیں کون استعمال کرسکے گا اور اے آئی نظام انہیں کس طرح استعمال کریں گے، اس کے لیے واضح قواعد ضروری ہوں گے
ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج صرف اے آئی تک رسائی حاصل کرنا نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے مطابق اسے تیار اور استعمال کرنا ہے یونیورسٹیوں میں مشین لرننگ، ڈیٹا انجینئرنگ اور اے آئی نظاموں کی تعلیم کو صنعت سے جوڑنا، مقامی ماہرین تیار کرنا اور پاکستانی کمپنیوں کو عالمی منڈی کے لیے اے آئی مصنوعات بنانے کے قابل بنانا اس عمل کے اہم حصے ہوں گے
چین کی تجویز پاکستان کو ماڈلز، کمپیوٹنگ اور تربیت تک رسائی کا ایک ممکنہ راستہ فراہم کرسکتی ہے، لیکن مقامی زبانوں، مقامی صنعتوں اور مقامی ڈیٹا کے لیے نظام تیار کرنے کی ذمہ داری پاکستان کے اپنے اداروں اور ماہرین کو ادا کرنا ہوگی اس طرح مصنوعی ذہانت کو صرف بیرون ملک تیار ٹیکنالوجی کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے پاکستان اپنے مقامی اے آئی حل تیار کرکے انہیں عالمی منڈی تک بھی پہنچا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید