َجَنتر منتر سے ممبئی تک انتخابی بحران سڑکوں پر، گیانییش کمار کے استعفے کا مطالبہ ملک گیر تحریک میں تبدیل ہونے لگا
دہلی:بھارت کے الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج اب صرف پارلیمنٹ اور سیاسی بیانات تک محدود نہیں رہا،نئی دہلی کے جَنتر منتر پر پولیس کی بھاری رکاوٹیں، مظاہرین کی گرفتاریاں، مختلف ریاستوں میں کانگریس کے احتجاج، اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ حکمت عملی اور یکم اکتوبر سے پہلے ہی 2 اور 4 اکتوبر کے بڑے احتجاجی پروگراموں کے اعلان نے بھارتی انتخابی ادارے کے بحران کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے،تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ یہ عوامی سطح پر ملک گیر تحریک بن چکی ہے، کیونکہ دستیاب شواہد میں بڑے پیمانے پر احتجاج زیادہ تر سیاسی جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی گروپوں تک محدود نظر آتے ہیں
تنازع کا مرکز چیف الیکشن کمشنر گیانییش کمار ہیں،یہ بحران اس رپورٹ کے بعد شدت اختیار کر گیا جس میں کہا گیا کہ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی، ووٹروں کے نام شامل یا خارج کرنے، فارم 6 میں تبدیلیوں اور انتخابی اعداد و شمار کے انتظام سے متعلق فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراضات ریکارڈ کرائے تھے
25 ستمبر کو نئی دہلی کا جَنتر منتر اس تنازعہ کا عملی مرکز بن گیا،بھارتی یوتھ کانگریس نے رائسینا روڈ سے جَنتر منتر کی طرف مارچ کیا، جبکہ دیگر طلبہ اور سول سوسائٹی تنظیموں نے بھی الیکشن کمیشن اور گیانییش کمار کے خلاف احتجاج کیا
پولیس نے جَنتر منتر کے اطراف رکاوٹیں کھڑی کر دیں اور کئی مظاہرین کو اندر جانے سے روک دیا،مختلف احتجاجی مقامات سے تقریباً 150 سیاست دانوں، طلبہ رہنماؤں اور سول سوسائٹی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا،ان میں دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا، سی پی آئی ایم ایل لِبریشن کے رہنما دیپانکر بھٹاچاریہ اور سماجی کارکن یوگیندر یادو شامل تھے،پولیس کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے احتجاج کی باقاعدہ اجازت نہیں لی تھی
اسی روز جَنتر منتر میں داخلے پر پابندی اور بھاری پولیس تعیناتی کے باعث احتجاجی ماحول مزید کشیدہ ہوگیا،انڈین ایکسپریس کے مطابق پولیس نے سیکشن 163 نافذ کیا تھا، جس کے تحت پانچ یا اس سے زیادہ افراد کے اجتماع پر پابندی تھی
کانگریس نے 25 ستمبر کو گیانییش کمار کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ ملک کے متعدد حصوں میں احتجاج کیا،دہلی کے علاوہ بہار، آسام، پنجاب، اروناچل پردیش، منی پور، اتر پردیش اور مغربی بنگال میں مظاہروں کی اطلاعات سامنے آئیں
پٹنہ اور چندی گڑھ میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپیں استعمال کیں، جبکہ آسام میں ریاستی کانگریس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی سمیت متعدد رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا،مغربی بنگال میں مظاہرین نے گیانییش کمار کا پتلا بھی نذر آتش کیا
ایک رپورٹ کے مطابق کانگریس کی احتجاجی سرگرمیاں 36 مقامات تک پہنچیں، تاہم ان مظاہروں کی تعداد کو ملک بھر کے عوامی رجحان کا براہ راست پیمانہ قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ بڑی تعداد میں شرکا سیاسی کارکن اور تنظیمی کارکن تھے
صورتحال کا زیادہ اہم پہلو یہ ہے کہ معاملہ صرف کانگریس تک محدود نہیں رہا،کم از کم 21 اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کے 30 ستمبر کو نئی دہلی میں اجلاس کی توقع ہے، جس میں گیانییش کمار کو عہدے سے ہٹانے اور الیکشن کمیشن کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے کانگریس رہنما راہول گاندھی اور سی پی آئی ایم کے جنرل سیکریٹری ایم اے بے بی سے رابطہ کیا ہے،یوں ایک ایسا معاملہ جس نے پہلے کانگریس اور الیکشن کمیشن کے درمیان محاذ آرائی کی شکل اختیار کی تھی، اب اپوزیشن کے مختلف دھڑوں کو بھی ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر لانے لگا ہے
اس سے بھی زیادہ اہم پیش رفت “کاکروچ جنتا پارٹی” یعنی CJP کی ہے،اس تنظیم نے گیانییش کمار کے استعفے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دینے کے بعد 2 اکتوبر سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا تھا اور “جَنتر منتر 2.0” کی دھمکی دی تھی،اس کی تین بنیادی مانگوں میں گیانییش کمار کا استعفیٰ اور ان کے خلاف کارروائی، خصوصی انتخابی نظرثانی SIR کو منجمد کرکے جنوری 2025 کی ووٹر فہرست بحال کرنا، اور 2023 کے الیکشن کمیشن تقرری قانون کو ختم کرکے انتخابی ادارے میں اصلاحات شامل ہیں
لیکن اب خود CJP کو ایک رکاوٹ کا سامنا ہے،ممبئی پولیس نے 2 اکتوبر کو شیواجی پارک میں اس کے احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے،CJP کے بانی ابھے جیت دپکے نے کہا ہے کہ اجازت نہ ملنے کی صورت میں تنظیم “جیل بھرو آندولن” شروع کرے گی
اس تحریک کو معروف کارکن سونم وانگچک کی حمایت بھی مل گئی ہے، اگرچہ انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ خود 2 اکتوبر کے احتجاج میں جسمانی طور پر شریک ہوں گے
ممبئی کی صورتحال مزید دلچسپ ہوگئی ہے،2 اکتوبر کو CJP کے احتجاج کے علاوہ 4 اکتوبر کو راج ٹھاکرے کی مہاراشٹرا نونرمان سینا اور ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا یو بی ٹی نے بھی الیکشن کمیشن اور SIR کے خلاف مشترکہ مارچ کا اعلان کیا ہے
یہ اتحاد اس لیے اہم ہے کہ راج اور ادھو ٹھاکرے سیاسی طور پر ایک دوسرے سے طویل عرصے سے الگ رہے ہیں، مگر الیکشن کمیشن کے معاملے نے دونوں کو مشترکہ احتجاج پر آنے کا موقع دیا ہے،شیو سینا یو بی ٹی نے CJP کے 2 اکتوبر کے احتجاج کی حمایت بھی کی ہے
دوسری طرف الیکشن کمیشن نے اختلافات کے الزامات کو اس انداز میں پیش کرنے سے اختلاف کیا ہے کہ گویا کمیشن نے متفقہ طور پر SIR کے فیصلے نہیں کیے،کمیشن کے مطابق اہم فیصلے تینوں الیکشن کمشنروں کی منظوری سے کیے گئے اور مختلف تجاویز یا اندرونی اعتراضات ادارہ جاتی غوروفکر کا معمول کا حصہ ہیں
26 ستمبر کو کمیشن کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ SIR سے متعلق اہم فیصلے تینوں کمشنروں کی مکمل رضامندی سے ہوئے،بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسی بیان کو اپوزیشن کے الزامات کے جواب کے طور پر پیش کیا ہے
ایک اور اہم پیش رفت میں الیکشن کمیشن نے 27 ستمبر کو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے گیانییش کمار کے مبینہ استعفے کے خط کو جعلی قرار دیا،یعنی گیانییش کمار نے استعفیٰ نہیں دیا ہے
اصل بحران کہاں ہے؟
اس پورے معاملے کا سب سے حساس پہلو محض یہ نہیں کہ ایک سیاسی جماعت چیف الیکشن کمشنر کا استعفیٰ مانگ رہی ہے،اصل مسئلہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی، ووٹروں کے ناموں کے اخراج، الیکشن کمیشن کے اندر ریکارڈ شدہ اختلافات اور اس ادارے پر عوامی اعتماد کا ہے
ایک طرف اپوزیشن کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں اور کمیشن کے اندر اختلافات انتخابی شفافیت کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں،دوسری طرف الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ SIR قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہو رہی ہے اور کمیشن کے فیصلے متفقہ ہیں،ان دونوں مؤقفوں کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ موجودہ دستیاب معلومات سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ انتخابی دھاندلی کا الزام ثابت ہوچکا ہے
اور ایک نہایت اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ سوشل میڈیا پر جَنتر منتر کے “بہت بڑے تازہ مظاہرے” کی بعض ویڈیوز گردش کرتی رہیں، جنہیں دہلی پولیس نے پرانی ویڈیوز قرار دے کر مسترد کیا،اس لیے احتجاج کے حجم کے بارے میں سوشل میڈیا کے مناظر کو موجودہ زمینی صورتحال کا قطعی ثبوت سمجھنا خطرناک ہوگا
اس وقت بھارت میں صورتحال ایک ایسے سیاسی و ادارہ جاتی امتحان میں داخل ہوچکی ہے جس کا اگلا بڑا مرحلہ 30 ستمبر سے 4 اکتوبر کے درمیان سامنے آسکتا ہے،30 ستمبر کو اپوزیشن کا متوقع مشترکہ اجلاس، 2 اکتوبر کو CJP کا احتجاج یا ممکنہ “جیل بھرو آندولن”، اور 4 اکتوبر کو راج و ادھو ٹھاکرے کا مشترکہ ممبئی مارچ،اگر ان مختلف دھاروں میں واقعی وسیع سیاسی، طلبہ اور سول سوسائٹی کی شرکت بڑھتی ہے تو تنازعہ کا دائرہ نمایاں طور پر وسیع ہوگا،فی الحال دستیاب شواہد یہ ضرور دکھاتے ہیں کہ معاملہ معمول کے سیاسی بیان بازی کے مرحلے سے نکل کر سڑکوں، پولیس کارروائی اور مشترکہ اپوزیشن حکمت عملی تک پہنچ چکا ہے، لیکن اسے ابھی پورے بھارتی عوام کے یکساں ردعمل کا نام دینا ممکن نہیں





