Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستانی خلا باز پہلی بار چین کے خلائی اسٹیشن پہنچنے کے قریب

پاکستانی خلا باز پہلی بار چین کے خلائی اسٹیشن پہنچنے کے قریب

پاکستان کے 2 پائلٹ زیشان علی اور خرم داؤد چین کے خلائی مرکز میں کئی ماہ سے سخت تربیت حاصل کر رہے ہیں اور ان دونوں میں سے ایک کو چین کے تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر جانے والے پہلے پاکستانی اور چین کی جانب سے خلائی اسٹیشن لے جائے جانے والے پہلے غیر ملکی خلا باز کے طور پر منتخب کیا جائے گا۔ حتمی انتخاب اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے
دونوں پائلٹ بیجنگ کے چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں چینی زبان سیکھنے کے ساتھ خلائی جہاز کے نظام، بے وزنی کی حالت میں کام کرنے، کھانے، سونے اور آلات کی مرمت کی تربیت حاصل کر رہے ہیں انہیں خلا میں روانگی کے دوران پیدا ہونے والی شدید قوت برداشت کرنے کی بھی مشق کرائی جا رہی ہے۔ دونوں کا انتخاب تقریباً 20 حتمی امیدواروں میں سے کیا گیا تھا جن میں پائلٹس اور سائنس دان شامل تھے
منتخب ہونے والا پاکستانی خلا باز خلائی جہاز اڑانے کے بجائے پاکستان کے سائنسی تجربات کی نگرانی کرنے والے ماہر کے طور پر خدمات انجام دے گا سپارکو کو ملک کی مختلف جامعات سے 300 سے زیادہ تجربات کی تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں سے چینی اداروں نے اس مشن کے لیے 4 حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے تجربات منتخب کیے ہیں ان تجربات کا تعلق غذائی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیق سے ہے
یہ مشن پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے خلائی تعاون کا حصہ ہے دونوں ممالک نے انسانی خلائی پرواز کے پروگرام پر تعاون کا آغاز 2019 میں کیا تھا جبکہ فروری 2025 میں سپارکو اور چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کے درمیان باقاعدہ معاہدہ بھی ہوا معاہدے کے تحت 2 پاکستانی خلا بازوں کو چین میں تربیت دی جانی تھی اور ان میں سے ایک کو تیان گونگ خلائی اسٹیشن کے مشن پر بھیجا جانا ہے
پاکستان اور چین کا خلائی تعاون صرف خلا باز بھیجنے تک محدود نہیں چین پاکستان کے مصنوعی سیارے بھی خلا میں بھیج چکا ہے، دونوں ممالک نے سیٹلائٹ نیویگیشن کے شعبے میں تعاون کیا ہے جبکہ پاکستان کا تیار کردہ ایک قمری روور بھی چین کے چانگ ای 8 مشن کے ساتھ تقریباً 2028 میں چاند پر بھیجے جانے کی منصوبہ بندی میں شامل ہے یہ روور مصنوعی ذہانت کی مدد سے چاند کی سطح پر رکاوٹوں کی نشاندہی اور راستے کا تعین کرے گا
تیان گونگ خلائی اسٹیشن پر پاکستانی خلا باز کا قیام تقریباً ایک ہفتے کا ہوگا وہ چینی ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے چین سے خلا میں جائے گا اور چینی عملے کے ساتھ واپس آئے گا پاکستان کے پاس فی الحال اپنا انسانی خلائی مشن بھیجنے کے لیے آزاد خلائی راکٹ یا عملے کو لے جانے والا خلائی جہاز موجود نہیں، اس لیے یہ مشن مکمل طور پر چینی خلائی پروگرام کے تعاون سے انجام پائے گا
چین نے مئی 2026 میں پاکستان کو اپنے خلائی اسٹیشن پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت کو دونوں ممالک کے خلائی تعاون کا اہم حصہ قرار دیا تھا پاکستان کی جانب سے مستقبل میں کسی خلا باز کو چاند پر بھیجنے کے حوالے سے فی الحال کوئی باضابطہ وعدہ یا معاہدہ موجود نہیں
اگر اکتوبر میں حتمی انتخاب مکمل ہوگیا تو پاکستان کا منتخب خلا باز 2026 کے اختتام کے قریب تیان گونگ خلائی اسٹیشن کے مشن میں شامل ہوسکتا ہے یہ پاکستان کے انسانی خلائی پروگرام کے لیے ایک اہم مرحلہ ہوگا اور پاکستانی سائنس دانوں کو خلا میں تجربات کرنے کا عملی موقع فراہم کرے گا

قومی خبریں سے مزید