تہران کے اسپتال پر امریکی اسرائیلی حملہ، مجتبیٰ خامنہ ای ملبے تلے دبنے کے بعد دوبارہ لاپتا ہوگئے؟
تہران:ایرانی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں ایک حیران کن دعویٰ سامنے آیا ہے کہ فروری میں ان کے والد کے خلاف حملے کے بعد انہیں تہران کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا تھا، لیکن بعد میں اسی اسپتال پر حملے کے نتیجے میں وہ دوبارہ ملبے تلے دب گئے اور انہیں ملبے سے نکالا گیا
نیویارک پوسٹ نے قطری ٹیلی وژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی عالم محسن حیدری کے حوالے سے یہ دعویٰ رپورٹ کیا ہے،حیدری کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہونے کے بعد اسپتال پہنچے تھے، جہاں تہران کے تین اسپتالوں پر بمباری ہوئی اور ان میں سے ایک کے ملبے سے انہیں نکالا گیا
رپورٹ کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملبے سے نکالے جانے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا اور اس کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں آئے،ان کی جانب سے بھی کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی کارروائی میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی تہران میں موجود عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جس میں 86 سالہ ایرانی رہنما اور ان کے کئی اعلیٰ عہدیدار ہلاک ہوئے،اس کے بعد تہران میں متعدد اسپتالوں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا
تاہم مجتبیٰ خامنہ ای کے اسپتال میں موجود ہونے، ملبے سے نکالے جانے اور موجودہ مقام سے متعلق یہ تفصیلات فی الحال ایرانی عالم کے بیان پر مبنی ہیں،ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم مجتبی خامنہ ای گزشتہ سات ماہ سے مسلسل منظر سے غائب ہیں جس کی بنیاد پر مغربی تجزیہ نگار ہی نہیں ایرانی دانشور حلقوں کے ساتھ ریاستی و حکومتی کوریڈور میں بھی پراسرار خاموشی کو دیکھتے ہوئے بعض سنجیدہ حلقوں کا خیال ہے مجتبی خامنہ ای بھی عین ممکن ہے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے ہوں





