سپریم کورٹ کا امیگریشن حراست کیس، مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے تارکین وطن کی رہائی پر نئی جنگ چھڑ گئی
واشنگٹن:امریکا میں سپریم کورٹ کے سامنے زیرِ غور ایک اہم امیگریشن مقدمہ اس سوال پر مرکوز ہوگیا ہے کہ طویل عرصے تک ملک بدری کی کارروائی کا سامنا کرنے والے ایسے غیر شہری، جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہے، کیا لازماً ضمانتی سماعت کے حقدار ہیں
فوکس نیوز کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے Genalo v. D.C. مقدمہ سننے کی درخواست کی ہے،کیس ایک ڈومینیکن شہری سے متعلق ہے جسے چار مجرمانہ سزاؤں کے بعد امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے حراست میں رکھا ہوا ہے جبکہ وہ اپنی ملک بدری کے خلاف قانونی کارروائی کررہا ہے
تنازعہ کی بنیاد دوسرے سرکٹ کی ایک قانونی نظیر ہے جس کے تحت اگر لازمی امیگریشن حراست ’’غیر معقول حد تک طویل‘‘ ہوجائے تو زیرحراست شخص کو ضمانتی سماعت فراہم کرنا ضروری ہے،ایسی سماعت میں حکومت کو واضح اور مضبوط شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص فرار ہونے کا خطرہ ہے یا کمیونٹی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
امیگریشن حراست کے حامی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے اس قانونی اصول کو برقرار رکھا تو طویل عرصے سے زیرحراست بعض مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے غیر شہریوں کو رہائی کی سماعت کا راستہ مل سکتا ہے،دوسری طرف اس مقدمے کا اصل قانونی سوال حراست کے آئینی اور قانونی دائرہ کار سے متعلق ہے، نہ کہ تمام تارکین وطن کے لیے عمومی رہائی کے حق سے
امریکا فرسٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین چاڈ میزِل، جو سابق محکمہ انصاف کے عہدیدار بھی رہ چکے ہیں، نے فوکس نیوز سے گفتگو میں اس مقدمے کے ممکنہ اثرات کو امیگریشن قانون سے آگے عوامی تحفظ کے معاملے سے جوڑا
یہ مقدمہ ایسے وقت سپریم کورٹ پہنچا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی امیگریشن اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے غیر شہریوں کی حراست کو اپنی امیگریشن پالیسی کا اہم حصہ بنا رکھا ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ یہ طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے کہ طویل ملک بدری کارروائی کے دوران وفاقی حکومت کسی زیرحراست غیر شہری کو کتنے عرصے تک بغیر ضمانتی سماعت کے حراست میں رکھ سکتی ہے





