فٹرمن کا ڈیموکریٹک پارٹی پر تنقید، اسرائیل کی حمایت کو پارٹی میں اپنی اہم حد قرار دے دیا
امریکی سینیٹر جان فٹرمن نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے بارے میں بڑھتی ہوئی اختلافی سوچ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے ’’بڑے خیمے‘‘ میں بعض ایسے خیالات کے لیے زیادہ گنجائش دکھائی دیتی ہے جن میں امریکہ کو 9/11 حملوں کا ذمہ دار یا مستحق قرار دینے والی باتیں شامل ہیں، جبکہ اسرائیل کی کھلی حمایت کرنے والے ڈیموکریٹس کے لیے گنجائش محدود ہوتی جا رہی ہے
ٹیکساس ٹریبیون فیسٹیول میں گفتگو کرتے ہوئے فٹرمن نے کہا کہ اگر ڈیموکریٹک پارٹی باقاعدہ طور پر ’’اسرائیل مخالف‘‘ جماعت بن گئی تو وہ پارٹی چھوڑنے پر غور کریں گے،ان کے مطابق اسرائیل کی حمایت ان کے لیے ایک بنیادی اصول ہے
فٹرمن کا حوالہ حسن پائیکر کے 2019 کے ایک بیان کی طرف تھا جس میں پائیکر نے کہا تھا کہ امریکہ نے 9/11 حملے ’’خود اپنے لیے لائے‘‘،بعد میں پائیکر نے اس بیان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی عوام ان حملوں کے مستحق نہیں تھے
فٹرمن نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کے بارے میں بدلتے ہوئے رویوں کو سینیٹ میں اسرائیل کو فوجی امداد دینے سے متعلق بعض حالیہ ووٹوں سے بھی جوڑا،اپریل میں 40 ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اسرائیل کو 295 ملین ڈالر کے بلڈوزر فروخت روکنے کی قرارداد کی حمایت کی، جبکہ 36 نے 151.8 ملین ڈالر مالیت کے 1,000 پاؤنڈ بموں کی فروخت روکنے کے حق میں ووٹ دیا
دوسری جانب ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے چیئرمین کین مارٹن نے کہا ہے کہ حسن پائیکر ڈیموکریٹک پارٹی کی نمائندگی نہیں کرتے اور ان کے متنازعہ بیانات پارٹی کے امیدواروں اور منتخب نمائندوں کی عمومی سوچ کی عکاسی نہیں کرتے
اسی تقریب میں فٹرمن سے جب پوچھا گیا کہ وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے کیوں نہیں چلتے تو انہوں نے غلطی سے خود کو ’’عمر بھر کا ریپبلکن‘‘ کہہ دیا، پھر فوراً اپنی بات درست کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈیموکریٹ ہیں





