Story of the Might is Right
گھر ملبے میں بدل گئے، فلسطینی غاروں میں پناہ لینے پر مجبور، مغربی کنارے میں ایک بستی کی خاموش داستان
رپورٹ : آفاق فاروقی
شام اترتی ہے تو مغربی کنارے کی پہاڑیوں پر اندھیرا آہستہ آہستہ پھیلنے لگتا ہے،کبھی انہی پہاڑیوں کے دامن میں چھوٹے چھوٹے گھر روشن ہوا کرتے تھے،کھڑکیوں سے بچوں کی آوازیں آتی تھیں، صحن میں کپڑے سوکھتے تھے اور شام کے وقت چائے کی خوشبو ہوا میں گھلتی تھی
اب وہاں کئی گھروں کی جگہ ملبے کے ڈھیر ہیں
جن فلسطینی خاندانوں کے گھر مسمار کر دیے گئے، ان میں سے بعض نے انہی پہاڑوں کے اندر موجود قدرتی غاروں کو اپنا نیا ٹھکانہ بنا لیا ہے،پتھر کی دیواریں ہیں، کم روشنی ہے، محدود جگہ ہے، مگر یہی غار اب ان کے لیے گھر کا متبادل ہیں
ایک غار کے اندر زندگی بہت چھوٹی ہو جاتی ہے،چند بستر، کچھ برتن، بچوں کے کپڑے اور روزمرہ ضرورت کی چند چیزیں،باہر کھلی زمین ہے، مگر اندر ہر چیز سمٹ کر رہ گئی ہے
شاید سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب بچے اپنے پرانے گھر کا ذکر کرتے ہیں،ان کے لیے گھر صرف اینٹیں اور چھت نہیں تھا،وہ جگہ تھی جہاں ان کا بچپن تھا، جہاں کسی ماں نے برسوں کھانا پکایا، جہاں کسی باپ نے دیوار پر کیل لگا کر خاندان کی کوئی تصویر آویزاں کی، جہاں رات کو دروازہ بند کرتے ہوئے یہ اطمینان ہوتا تھا کہ دنیا سے الگ ایک محفوظ جگہ موجود ہے
اب وہی خاندان رات کو غار کے منہ پر خاموش بیٹھ کر پہاڑیوں کو دیکھتے ہیں
کبھی گھر انسان کو پناہ دیتا ہے، کبھی انسان گھر کی یاد کو اپنے اندر محفوظ رکھ کر زندہ رہتا ہے،ان فلسطینی خاندانوں کے پاس اب شاید پہلی چیز نہیں رہی، مگر دوسری چیز ابھی باقی ہے
اور شاید یہی وجہ ہے کہ غار کی سرد اور تاریک دیواروں کے درمیان بھی کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگا کر سلاتی ہے، کوئی باپ آنے والے کل کی فکر کرتا ہے اور کوئی بچہ خواب میں پھر اسی گھر میں لوٹ جاتا ہے جو اب صرف یاد میں باقی ہے
ملبے کے نیچے صرف دیواریں نہیں دبیں، ایک پوری زندگی کا نقشہ بھی دفن ہوگیا
یہ منظر صرف چند فلسطینی خاندانوں کی بے گھری کی کہانی نہیں، یہ اس جدید انسانی تہذیب کے سامنے کھڑا ایک خاموش سوال بھی ہے جس نے ٹریلینوں ڈالر کی معیشتیں بنائیں، مصنوعی ذہانت کو انسانی ذہانت کی حدوں تک پہنچایا، ہائی ٹیک طب کے ذریعے زندگی کو طول دینے کے نئے راستے دریافت کیے، خلا کی وسعتوں میں سفر کیا، چاند پر قدم رکھا اور دور دراز کائناتوں، ستاروں اور بلیک ہولز کے راز تلاش کرنے میں مصروف ہے،اسی دنیا میں انسانی حقوق کے منشور ہیں، جمہوریت کے نعرے ہیں، عالمی عدالتیں ہیں، اقوام متحدہ ہے اور انصاف، آزادی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے بے شمار عالمی ادارے ہیں،پھر بھی اسی دنیا میں کچھ انسان ایسے بھی ہیں جن کے گھر چھین لیے گئے اور جنہیں اپنی چھت کے لیے پہاڑ کے اندر ایک غار تلاش کرنا پڑا،شاید تہذیب کی سب سے تلخ تصویر یہی تضاد ہے کہ انسان نے کائنات کے راز پڑھنے کی صلاحیت تو حاصل کر لی، مگر زمین پر اپنے جیسے انسان کے دکھ کو ختم کرنے میں آج بھی بے بس دکھائی دیتا ہے،تاریخ کے آغاز سے آج تک بارہا یہ حقیقت سامنے آتی رہی ہے کہ جب اصول اور طاقت آمنے سامنے کھڑے ہوں تو اصول اکثر خاموش کر دیے جاتے ہیں،مذاہب موجود رہتے ہیں ، عالمی اداروں کی بلڈنگوں میں اجلاس پہ اجلاس جاری ہیں،قراردادیں لکھی جاتی ہیں، عدالتیں فیصلے سناتی ہیں، مگر زمین پر نتیجہ اکثر اسی پر منحصر ہوتا ہے کہ طاقت کس کے ہاتھ میں ہے،شاید ہزاروں برس کی انسانی تاریخ کے بعد بھی دنیا نے ایک تلخ اصول نہیں بدلا،Might is right





