ہرمز سے ریکارڈ تیل گزرنے کا ٹرمپ کا دعویٰ، ایران کے 6 ملین بیرل تیل پر امریکی قبضہ، تہران کی معیشت مزید دباؤ میں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں ریکارڈ مقدار میں تیل منتقل کیا گیا، جبکہ امریکی دباؤ کے تحت ایران کی تیل کی آمدنی کو ایک اور بڑا دھچکا اس وقت لگا ہے جب ایران سے منسلک 3 تیل بردار جہازوں میں موجود تقریباً 6 ملین بیرل خام تیل بحرِ اوقیانوس کے راستے امریکا کی جانب بڑھ رہا ہے
ٹرمپ نے 27 ستمبر کو کہا کہ امریکا نے گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے “ریکارڈ مقدار” میں تیل نکالا، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح سے بھی زیادہ تھا،صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ہفتے کے اختتام پر 20 ملین بیرل سے زیادہ تیل آبنائے ہرمز سے گزرا،تاہم ان مخصوص اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ابھی سامنے نہیں آئی
دوسری جانب بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا کی جانب سے روکے گئے 3 ایران سے منسلک سپر ٹینکروں میں تقریباً 6 ملین بیرل ایرانی خام تیل موجود ہے، جس کی موجودہ مارکیٹ قیمت تقریباً $600 ملین بنتی ہے،یہ جہاز اب بحرِ اوقیانوس میں امریکا کی سمت بڑھ رہے ہیں
ان میں Majestic X اور Tifani برازیل کے شمالی ساحل کے قریب دیکھے گئے ہیں، جبکہ تیسرے جہاز نے کیپ آف گڈ ہوپ کا رخ مکمل کرکے بحرِ اوقیانوس میں داخل ہونے کی اطلاع ہے،امریکی حکام کی جانب سے ان تیل کے مستقل قبضے اور ممکنہ ضبطی کی قانونی کارروائی کا معاملہ بھی زیر بحث ہے
یہ صورتحال ایران کے لیے صرف 6 ملین بیرل کے تقریباً $600 ملین مالیت کے تیل کے نقصان تک محدود نہیں،اصل دباؤ ایران کی مستقبل کی تیل فروخت اور اس سے حاصل ہونے والی غیر ملکی کرنسی کی آمدنی پر ہے،رائٹرز کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی کے بعد ایران تقریباً 7 ہفتوں تک آبنائے ہرمز سے چین کو بامعنی مقدار میں خام تیل منتقل نہیں کر سکا تھا، جس سے تہران کی غیر ملکی کرنسی کی آمدنی متاثر ہوئی
ستمبر کے دوران صورتحال میں خلیجی تیل کی مجموعی آمدورفت میں کچھ بحالی ضرور ہوئی ہے،رائٹرز کے مطابق 20 ستمبر سے شروع ہونے والے ہفتے میں آبنائے ہرمز سے تقریباً 33.7 ملین بیرل خام تیل کی برآمد ریکارڈ ہوئی، جبکہ گزشتہ مکمل ہفتے میں یہ مقدار 49.2 ملین بیرل تھی،لیکن ان کارگو میں زیادہ تر سعودی عرب اور عراق کا تیل شامل تھا، ایران کا نہیں
اسی فرق میں ایران کے خلاف موجودہ امریکی معاشی دباؤ کی اصل شدت پوشیدہ ہے،آبنائے ہرمز سے سعودی اور عراقی تیل کا گزرنا بحال ہو سکتا ہے، لیکن اگر ایران اپنے خام تیل کو خریداروں تک پہنچانے میں مسلسل ناکام رہتا ہے تو تہران کو سب سے اہم ذریعہ آمدنی، یعنی تیل سے حاصل ہونے والی غیر ملکی کرنسی، سے محرومی کا سامنا رہے گا
ایرانی معیشت پہلے ہی شدید دباؤ میں ہے،ایرانی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ سے جون 2026 کے دوران ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں سالانہ بنیاد پر 10.1 فیصد کمی ہوئی، جبکہ تیل اور گیس کے شعبے میں 26 فیصد سکڑاؤ ریکارڈ کیا گیا
اس لیے ہرمز سے تیل کی عالمی آمدورفت میں بحالی بظاہر عالمی منڈی کے لیے مثبت خبر ہے، لیکن ایران کے لیے تصویر مختلف ہے،اگر امریکا ایرانی تیل کی سمندری نقل و حمل کو محدود رکھنے اور پہلے سے سمندر میں موجود ایرانی کارگو کو بھی ضبط کرنے میں کامیاب رہتا ہے تو تہران کی نقد آمدنی، زرمبادلہ کے ذخائر اور حکومت کی جنگی و معاشی اخراجات برداشت کرنے کی صلاحیت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے،وال اسٹریٹ جرنل نے بھی حالیہ دنوں میں رپورٹ کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی اور تیل کی محدود آمدنی ایران کے سب سے اہم برآمدی ذریعے کو نچوڑ رہی ہے
یوں ٹرمپ کا “ہرمز سے ریکارڈ تیل گزرنے” کا دعویٰ اور ایران کے تقریباً $600 ملین مالیت کے خام تیل سے بھرے ٹینکروں کا امریکا کی جانب بڑھنا ایک ہی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں،امریکا ایران کی آبنائے ہرمز پر گرفت کو صرف فوجی مسئلہ نہیں بلکہ تہران کی تیل آمدنی اور غیر ملکی زرمبادلہ کے خلاف معاشی دباؤ کے طور پر بھی استعمال کر رہا ہے





