Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکی عدالت کا ایپل کو 5.7 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

امریکی عدالت کا ایپل کو 5.7 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

امریکا کی ایک جیوری نے ایپل کو پیٹنٹ کی خلاف ورزی کے مقدمے میں سان ڈیاگو کی ٹیکنالوجی کمپنی ٹیکشن کو 5.7 ارب ڈالر سے زائد ادا کرنے کا حکم دیا ہے یہ امریکا میں اس نوعیت کا اب تک کا سب سے بڑا عدالتی ہرجانہ قرار دیا جا رہا ہے
مقدمہ ایپل کے آئی فون اور ایپل واچ میں استعمال ہونے والی ٹیپٹک انجن ٹیکنالوجی سے متعلق ہے، جو صارف کو فون پر بٹن دبانے، اطلاع ملنے یا دیگر کارروائیوں کے دوران مخصوص کمپن محسوس کراتی ہے جیوری نے قرار دیا کہ ایپل کی یہ ٹیکنالوجی ٹیکشن کے 2 پیٹنٹس کی خلاف ورزی کرتی ہے
ٹیکشن نے ایپل کے خلاف مقدمہ 2021 میں دائر کیا تھا ایپل نے الزامات مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کی ٹیپٹک انجن ٹیکنالوجی ٹیکشن کی ٹیکنالوجی سے بنیادی طور پر مختلف ہے اور متعلقہ پیٹنٹس بھی ناقابل اعتبار ہیں
ایپل نے جیوری کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ٹیکشن کی پیٹنٹ ٹیکنالوجی استعمال نہیں کرتی اور ہرجانے کی رقم بھی مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد سے ثابت نہیں ہوتی دوسری جانب ٹیکشن کے وکیل نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جیوری نے کمپنی کے پیٹنٹ حقوق کو تسلیم کیا ہے
یہ مقدمہ پہلے بھی مختلف مراحل سے گزر چکا ہے۔ 2023 میں سان ڈیاگو کی ایک وفاقی عدالت نے فیصلہ ایپل کے حق میں دیا تھا، تاہم امریکی وفاقی اپیل عدالت نے گزشتہ سال مقدمہ دوبارہ بحال کر دیا، جس کے بعد معاملہ دوبارہ جیوری کے سامنے پہنچا

قومی خبریں سے مزید