Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

حوثیوں کی سعودی بحری ناکہ بندی، عالمی تجارت کے لیے بھی خطرہ بڑھ گیا

حوثیوں کی سعودی بحری ناکہ بندی، عالمی تجارت کے لیے بھی خطرہ بڑھ گیا

حوثیوں نے جولائی 2026 میں سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے سعودی عرب سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی اس کے بعد سعودی آئل ٹینکروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے باعث باب المندب سے گزرنے والی بحری تجارت میں نمایاں کمی آئی ہے
ستمبر تک حوثی فورسز نے باب المندب کے اطراف اہم جزیروں اور یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا لیا، جس سے انہیں اس اہم سمندری راستے میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی زیادہ صلاحیت حاصل ہوئی ہے حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائی سعودی عرب تک محدود ہے اور وہ باب المندب کو تمام عالمی جہازوں کے لیے مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتے
اصل قانونی سوال یہ ہے کہ کیا ایک غیر ریاستی مسلح گروہ بین الاقوامی قانون کے تحت غیر جانب دار تجارتی جہازوں پر ایسی ناکہ بندی نافذ کر سکتا ہے بین الاقوامی قانون میں بحری ناکہ بندی عام طور پر جنگی فریقوں کے اختیار سے منسلک سمجھی جاتی ہے، تاہم یمن کی صورتحال پیچیدہ ہے کیونکہ حوثی دارالحکومت صنعاء سمیت بڑے علاقے پر انتظامی اور عسکری کنٹرول رکھتے ہیں
ماہرین کے مطابق اگر حوثیوں کو یمن میں عملاً حکومتی اختیار رکھنے والی قوت تصور کیا جائے تو ناکہ بندی کے قانونی جواز کی بحث مختلف رخ اختیار کر سکتی ہے تاہم صرف ناکہ بندی کا اعلان کافی نہیں، بلکہ اسے مؤثر، واضح طور پر مطلع شدہ اور غیر جانب دارانہ ہونا چاہیے اور شہری آبادی کے لیے ضروری اشیا کی فراہمی سے متعلق انسانی قوانین کی پابندی بھی ضروری ہے
اس معاملے میں غیر جانب دار تجارتی جہازوں کی حیثیت بھی اہم ہے صرف یہ بات کہ کوئی جہاز سعودی عرب کے ساتھ تجارت کرتا ہے، اسے خود بخود فوجی ہدف نہیں بناتی کسی مخصوص جہاز یا بندرگاہ کو نشانہ بنانے کے لیے فوجی ہدف کی قانونی شرائط، شہری نقصان سے متعلق اصول اور دیگر بین الاقوامی قوانین کو الگ سے دیکھا جانا ضروری ہے
بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز دونوں اہم سمندری راستوں میں رکاوٹ عالمی توانائی اور تجارت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے اسی لیے باب المندب کی صورتحال اب صرف سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تنازع نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی جہاز رانی اور علاقائی سلامتی کا بھی اہم مسئلہ بن گئی ہے

قومی خبریں سے مزید