خلیج کی جنگ سے خطے میں تیل، تجارت اور سلامتی کا بحران بڑھ گیا
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف رواں سال کی گئی فوجی کارروائیوں کے باوجود ایران کی حکومت اور اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا جنگ کے اعلان کردہ مقاصد میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا شامل تھا، تاہم ایران کا مؤقف رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کا حصہ ہے
فروری 28 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ حملے شروع کیے جو تقریباً 40 دن جاری رہے ان حملوں میں ایرانی قیادت کے اہم افراد اور مختلف فوجی و دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، تاہم ایران کی حکومت برقرار رہی اور اس کا میزائل پروگرام بھی مکمل طور پر تباہ نہیں کیا جا سکا
اس جنگ کے اثرات ایران تک محدود نہیں رہے بلکہ پورا خلیجی خطہ متاثر ہوا ہے آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، اب کشیدگی کا مرکز بن چکا ہے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی شہروں اور تیل کی تنصیبات پر حملوں جبکہ عراق میں مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل پائپ لائن کو نشانہ بنانے سے علاقائی تجارت اور توانائی کی ترسیل کو مزید خطرات لاحق ہو گئے ہیں بحیرہ احمر کے راستے میں واقع باب المندب بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے
تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مختلف ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھایا ہے خلیجی ممالک کی معیشتیں توانائی، سیاحت اور خدمات کے شعبوں پر بڑی حد تک انحصار کرتی ہیں، اس لیے طویل جنگ اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ ان کے لیے بھی بڑا معاشی خطرہ بن گئی ہے
امریکا کی مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی پالیسی بھی دباؤ کا شکار ہوئی ہے اور بعض خلیجی ممالک امریکی سکیورٹی ضمانتوں کی صلاحیت اور قابل اعتماد ہونے پر سوال اٹھا رہے ہیں اسی دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاع کے اصول پر مبنی علاقائی تعاون کا انتظام قائم کیا ہے
موجودہ صورتحال میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیا گیا ہے۔ پاکستان اور قطر سمیت دیگر ممالک کی جانب سے مذاکرات کی کوششیں جاری رکھنے اور چین کو بھی ثالثی کے عمل میں کردار ادا کرنے کی تجویز دی گئی ہے چین خلیج سے تیل کی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے میں بھی اہم کردار ادا کر چکا ہے





