پاکٹ ریسشن‘ کیا ہے؟ ٹرمپ کا کانگریس کی منظوری کے بغیر $810 ملین وفاقی فنڈنگ روکنے کا اقدام
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 1 ارب ڈالر کی وفاقی فنڈنگ منسوخ کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے، جس کے لیے وہ کانگریس سے دوبارہ منظوری لینے کے بجائے ایک متنازعہ قانونی طریقہ استعمال کر رہے ہیں جسے ’’پاکٹ ریسشن‘‘ کہا جاتا ہے
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کے ذریعے کانگریس کی جانب سے پہلے ہی منظور کیے گئے تقریباً $810 ملین کے اخراجات ختم کیے جائیں گے،ان فنڈز کا بڑا حصہ ایسے پروگراموں اور اداروں کے لیے مختص تھا جن سے تارکین وطن، اقلیتی برادریوں اور بچوں کو فائدہ پہنچنا تھا
’’ریسشن‘‘ بنیادی طور پر کانگریس کی منظور کردہ رقم کو منسوخ کرنے کا عمل ہے، لیکن ’’پاکٹ ریسشن‘‘ میں انتظامیہ کانگریس کو باضابطہ طور پر رقم واپس لینے کی درخواست بھیجنے کے بجائے ایک مخصوص قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے فنڈز کو روکنے کی کوشش کرتی ہے
ٹرمپ کے اس اقدام پر دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے ارکانِ کانگریس کی جانب سے بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں،ناقدین کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ آئین کے تحت وفاقی اخراجات کا اختیار کانگریس کے پاس ہے اور صدر یک طرفہ طور پر کانگریس کی منظور شدہ رقم کو مستقل طور پر ختم نہیں کر سکتے
یہ تنازعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس سے صدر اور کانگریس کے درمیان وفاقی بجٹ پر آئینی اختیارات کی حدود کا سوال دوبارہ نمایاں ہو گیا ہے،ٹرمپ انتظامیہ کا اقدام بالخصوص ان پروگراموں کی وفاقی مالی معاونت کو متاثر کر سکتا ہے جنہیں انتظامیہ اپنی ترجیحات کے مطابق ختم یا محدود کرنا چاہتی ہے






