انیتا آنند کا اقوام متحدہ میں خطاب، کینیڈا کی عالمی حکمت عملی پر زور
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں کینیڈا کی خارجہ پالیسی اور عالمی ترجیحات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں کینیڈا کو اپنی آواز مضبوط بنانے اور مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کی ضرورت ہے وہ 26 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے کینیڈا کا قومی خطاب کرنے والی تھیں، جبکہ وزیر اعظم مارک کارنی اجلاس کے ابتدائی دنوں میں نیویارک میں موجود رہے تھے
انیتا آنند کے خطاب میں یوکرین کی حمایت، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور آرکٹک میں کینیڈا کی خودمختاری سمیت عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی چیلنجز اہم موضوعات میں شامل تھے انہوں نے کینیڈا کی اس حکمت عملی پر بھی زور دیا جس کے تحت درمیانی طاقت رکھنے والے ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر عالمی معاملات میں زیادہ مؤثر کردار ادا کریں
کینیڈا نے اس اجلاس کے موقع پر آسٹریلیا، برازیل، بھارت، یورپی یونین، کینیا اور بارباڈوس سمیت متعدد ممالک کے ساتھ مل کر کثیر ملکی تعاون کے فروغ کے لیے ایک نئے گروپ کا آغاز بھی کیا ہے کینیڈین حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی قانون، امن اور کثیر ملکی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانا ہے
انیتا آنند نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران جی 7 ممالک کے وزرائے خارجہ، شمالی یورپی ممالک اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں کینیڈا نے سمندری سلامتی، سوڈان میں تنازع کے خاتمے، یوکرین کی حمایت اور جنگ کے دوران شہریوں کے تحفظ جیسے معاملات پر بھی عالمی تعاون بڑھانے کی کوشش کی
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمن سے ملاقات میں انیتا آنند نے کثیر ملکی نظام، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا اقوام متحدہ کے مطابق ملاقات میں انسانی امداد اور عالمی تعاون کی اہمیت پر بھی بات ہوئی
کینیڈا نے اسی اجلاس کے دوران فلسطینی شہریوں کے لیے مزید 100 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان بھی کیا اس رقم میں 20 ملین ڈالر امن اور استحکام کے منصوبوں جبکہ 80 ملین ڈالر غزہ اور مغربی کنارے میں انسانی امداد کے لیے مختص کیے گئے ہیں کینیڈین حکومت کے مطابق اکتوبر 2023 سے فلسطینی شہریوں کے لیے کینیڈا کی مجموعی امداد 600 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے
کینیڈا کی حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، اس لیے کینیڈا اپنی خودمختاری، سلامتی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا پر انحصار کے ساتھ ساتھ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں کے ممالک سے تعلقات بھی وسیع کر رہا ہے انیتا آنند نے بھی کہا ہے کہ کینیڈا اپنی خارجہ پالیسی میں اصولوں کے ساتھ عملی سفارت کاری کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے






