اسرائیل سے امریکیوں کی بڑھتی ناراضگی پر سفیر ہکابی کی تین وجوہات، سوشل میڈیا، مذہبی آگاہی کی کمی اور مذہب مخالف سوچ کو ذمہ دار قرار دے دیا
امریکا میں اسرائیل کے بارے میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کی وجوہات پر امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی نے تین عوامل کی نشاندہی کی ہے، جن میں سوشل میڈیا پر مبینہ گمراہ کن معلومات اور غیر ملکی پروپیگنڈا، بائبل سے متعلق مذہبی آگاہی کی کمی اور خدا پر یقین رکھنے والوں کے خلاف نفرت شامل ہیں
ہکابی نے یہ مؤقف ایک انٹرویو میں اس وقت پیش کیا جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسرائیل کے اقدامات کا دفاع کر رہے تھے،ہکابی نے نیوز نیشن کے لیلینڈ وٹرٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط معلومات اور غیر ملکی پروپیگنڈا امریکی رائے عامہ کو متاثر کر رہا ہے
انہوں نے دوسری وجہ “بائبل سے متعلق آگاہی کی کمی” کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے امریکی اسرائیل اور اس کی تاریخ کو مذہبی تناظر میں سمجھنے کے لیے درکار بنیادی معلومات سے محروم ہیں
ہکابی نے تیسری وجہ ان لوگوں کے خلاف نفرت کو قرار دیا جو اس عقیدے پر قائم ہیں کہ خدا موجود ہے اور اس نے انسان کے لیے زندگی کے اصول مقرر کیے ہیں،ان کے مطابق یہ تمام عوامل مل کر بعض امریکیوں میں اسرائیل کے خلاف ناراضگی کو بڑھا رہے ہیں
امریکی سفیر نے اسرائیل اور امریکا کے درمیان تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے دنیا اور خصوصاً امریکا کے ساتھ اپنی شراکت داری میں متعدد قابل قدر خدمات اور فوائد فراہم کیے ہیں
ہکابی کا یہ تجزیہ ان کے ذاتی اور سیاسی مؤقف کی ترجمانی کرتا ہے،اسرائیل کے بارے میں امریکی رائے عامہ میں تبدیلی کی وجوہات پر مختلف سروے اور مطالعات میں غزہ کی جنگ، انسانی صورتحال، امریکی خارجہ پالیسی اور اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں سمیت متعدد عوامل پر بحث کی جاتی رہی ہے،اس لیے ہکابی کی جانب سے بیان کردہ تین عوامل کو ان کی اپنی تشریح کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا، نہ کہ امریکی عوام کے رویوں کی حتمی وضاحت کے طور پر





