Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جرمنی کا یورپ میں ہجرت کے خلاف نیا سخت نظام کا مطالبہ، بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے والوں کی فوری ملک بدری کی تجویز

جرمنی کا یورپ میں ہجرت کے خلاف نیا سخت نظام کا مطالبہ، بڑے پیمانے پر سرحد عبور کرنے والوں کی فوری ملک بدری کی تجویز

جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ نے بڑے پیمانے پر غیر قانونی سرحدی آمد کی صورت میں تارکین وطن کی فوری ملک بدری کے لیے یورپی سطح پر نیا تیز رفتار نظام قائم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے
میونخ میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ اور یورپی یونین کے مہاجرتی امور کے کمشنر میگنس برونر کے اجلاس کے آغاز پر ڈوبرنٹ نے کہا کہ یورپ کو ہجرت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ایک نیا مشترکہ طریقہ کار درکار ہے،ان کے مطابق یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں پر سیوتا جیسے غیر معمولی واقعات بار بار پیش آ رہے ہیں
ڈوبرنٹ نے اسپین کے شمالی افریقی علاقے سیوتا میں جولائی کے آخر میں پیش آنے والے بڑے پیمانے کے داخلے کو مثال بنایا، جہاں مراکش سے 72,000 سے زیادہ افراد اچانک داخل ہوئے تھے،بیشتر افراد بعد میں واپس چلے گئے، تاہم اسپین کے اندازے کے مطابق تقریباً 12,000 تارکین وطن اب بھی سیوتا میں موجود ہیں، جن میں کم عمر افراد بھی شامل ہیں
جرمن وزیر داخلہ نے کہا کہ ایسے واقعات میں، جب حکام یہ طے کریں کہ صورتحال کسی انسانی ہنگامی بحران کا نتیجہ نہیں بلکہ غلط معلومات کے باعث پیدا ہونے والی بڑے پیمانے کی نقل مکانی ہے، تو واپس بھیجنے کے لیے فوری کارروائی کا خصوصی طریقہ کار ہونا چاہیے
انہوں نے یورپی سرحدی تحفظ کے ادارے فرونٹیکس کو بھی ایسے بحرانوں میں زیادہ فعال کردار دینے کی تجویز دی اور کہا کہ اسے متاثرہ ملک کی مدد کے لیے 24 گھنٹے کے اندر فوری ردعمل دینے والی فورس تعینات کرنے کے قابل ہونا چاہیے
جرمنی اس معاملے کو صرف اسپین اور مراکش کے درمیان مسئلہ نہیں سمجھ رہا،جولائی میں جرمن چانسلر فریڈرک مرٹس نے بھی سیوتا کی صورتحال پر کہا تھا کہ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کا تحفظ غیر قانونی ہجرت سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اہمیت رکھتا ہے اور مراکش سے واپس آنے والے تارکین وطن کو فوری طور پر قبول کرنے کا مطالبہ کیا تھا
تازہ جرمن تجویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیوتا میں ہزاروں افراد کے اچانک داخلے نے یورپ میں ہجرت کے موجودہ نظام اور سرحدی تحفظ کے طریقہ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے

قومی خبریں سے مزید