الیکشن کمیشن کے اندر ہی اٹھتے رہے سوال: سیشان سے لواسہ تک اختلاف نے بھارتی انتخابی نظام کی بنیادیں ہلا دیں
دہلی:بھارت کے طاقتور الیکشن کمیشن کے اندر اختلافِ رائے کی تاریخ تین دہائیوں پر محیط ہے،آج جو تنازعہ انتخابی ادارے کی اندرونی کارروائی، کمشنروں کے اختلافات اور فیصلوں کی شفافیت کے حوالے سے سامنے آیا ہے، اس کی جڑیں 1993 میں ہونے والی اس بڑی تبدیلی تک جاتی ہیں جب الیکشن کمیشن کو مستقل طور پر ایک رکنی ادارے کے بجائے تین رکنی کمیشن میں تبدیل کیا گیا
26 ستمبر 2026 کو شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں انڈین ایکسپریس نے یاد دلایا کہ موجودہ تنازعہ سے قبل بھی بھارت کے الیکشن کمیشن کے اندر چیف الیکشن کمشنروں اور دوسرے الیکشن کمشنروں کے درمیان شدید اختلافات سامنے آتے رہے ہیں،کمیشن کا مؤقف ہے کہ اختلافی رائے ادارہ جاتی غوروفکر کا معمول کا حصہ ہے اور حتمی فیصلے حالیہ معاملات میں متفقہ طور پر کیے گئے ہیں
ٹی این سیشان: جب چیف الیکشن کمشنر نے نئے کمشنروں کو چیلنج کیا
1993 میں ٹی این سیشان چیف الیکشن کمشنر تھے،اسی سال ایم ایس گل اور جی وی جی کرشنامورتی کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا،سیشان نے اس انتظام کو اپنے اختیارات میں مداخلت سمجھتے ہوئے سپریم کورٹ میں تقرریوں اور کمیشن کی نئی ساخت کو چیلنج کیا
یہ معاملہ بالآخر 1995 میں سپریم کورٹ پہنچا،عدالت کے فیصلے نے واضح کیا کہ کثیر رکنی الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر چیئرمین ضرور ہے، لیکن دوسرے الیکشن کمشنروں کا بھی فیصلہ سازی میں آئینی کردار ہے
یہ فیصلہ بھارتی انتخابی نظام کی تاریخ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس نے چیف الیکشن کمشنر کے منصب کو مطلق اختیار کے بجائے اجتماعی فیصلہ سازی کے نظام کا حصہ قرار دیا
بعد کے قانونی ڈھانچے میں بھی یہی اصول برقرار رہا،موجودہ قانون کے مطابق کمیشن کو حتی الامکان اتفاق رائے سے فیصلے کرنے چاہئیں، لیکن اگر چیف الیکشن کمشنر اور دوسرے کمشنروں میں اختلاف ہو تو اکثریتی رائے فیصلہ کن ہوتی ہے،تین رکنی کمیشن میں اس کا مطلب ہے کہ دو ارکان کی رائے فیصلہ بن سکتی ہے
گوپال سوامی بمقابلہ نوین چاولہ،اختلاف کا مرکز انتخابی غیر جانب داری بن گئی
اگلا بڑا تنازعہ این گوپال سوامی کے دور میں سامنے آیا،جنوری 2009 میں چیف الیکشن کمشنر این گوپال سوامی نے صدرِ بھارت کو اپنے ساتھی الیکشن کمشنر نوین چاولہ کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی
گوپال سوامی نے چاولہ کی سیاسی غیر جانب داری پر سوال اٹھائے،حکومت نے سفارش کی حمایت نہیں کی اور چاولہ اپنے عہدے پر برقرار رہے،بعد میں وہ خود چیف الیکشن کمشنر بن گئے،یہ واقعہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ اس میں اختلاف کسی انتظامی معاملے تک محدود نہیں تھا بلکہ الیکشن کمیشن کے ایک رکن کی سیاسی غیر جانب داری پر سوال اٹھایا گیا تھا
اشوک لواسہ: اختلاف موجود تھا، مگر اسے عوام کے سامنے کیسے لایا جائے؟
2019 کے عام انتخابات میں ایک مرتبہ پھر الیکشن کمیشن کے اندر اختلاف نمایاں ہوا،الیکشن کمشنر اشوک لواسہ نے وزیراعظم نریندر مودی اور اس وقت کے بی جے پی صدر امیت شاہ کے خلاف انتخابی ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں سے متعلق بعض معاملات میں اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا
لواسہ کا بنیادی اعتراض یہ بھی تھا کہ ان کی اختلافی رائے حتمی احکامات میں مناسب طور پر درج نہیں کی جا رہی تھی،انہوں نے بعد میں ایسے اجلاسوں سے خود کو الگ کرلیا جن میں انتخابی ضابطۂ اخلاق کی شکایات زیر بحث تھیں
یہ معاملہ اس لیے غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا کہ اس نے ایک بنیادی سوال کھڑا کردیا،اگر کسی آئینی ادارے کے اندر ایک رکن اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرتا ہے تو کیا عوام کو صرف حتمی فیصلہ معلوم ہونا چاہیے یا اختلافی رائے بھی مکمل طور پر سامنے آنی چاہیے؟
لواسہ 2020 میں اپنی مدت مکمل ہونے سے تقریباً دو سال پہلے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہوگئے اور بعد میں ایشیائی ترقیاتی بینک سے وابستہ ہوگئے
ارون گوئل کا استعفیٰ: ایک اور سوال
مارچ 2024 میں الیکشن کمشنر ارون گوئل نے بھی اپنی مدت مکمل ہونے سے پہلے استعفیٰ دے دیا،ان کے استعفے میں ذاتی وجوہات بیان کی گئی تھیں، تاہم اس وقت بھارتی میڈیا میں چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار کے ساتھ ان کے مبینہ اختلافات کے بارے میں قیاس آرائیاں بھی ہوئیں،اہم بات یہ ہے کہ ان قیاس آرائیوں کو گوئل کے استعفے میں سرکاری طور پر وجہ قرار نہیں دیا گیا تھا
2026 کا تنازع،اختلاف اب فائلوں میں کتنی بار درج ہوا؟
ستمبر 2026 میں ایک نئی رپورٹ نے اس پرانے مسئلے کو دوبارہ قومی بحث میں لا کھڑا کیا ہے،انڈین ایکسپریس کی 23 ستمبر کی تحقیق کے مطابق موجودہ دو الیکشن کمشنروں نے 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ مختلف معاملات پر اپنے اعتراضات ریکارڈ کرائے
یہاں ایک اہم فرق سامنے آتا ہے،الیکشن کمیشن نے ان اعتراضات کو حتمی اختلاف یا ادارے کے ٹوٹنے کے ثبوت کے طور پر قبول نہیں کیا،کمیشن کا کہنا ہے کہ ارکان کی جانب سے مسودوں کے مرحلے پر سوالات، تجاویز اور اعتراضات معمول کے اندرونی احتساب کا حصہ ہیں اور حتمی فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے
لیکن یہی مقام موجودہ تنازع کو اہم بناتا ہے،اختلافِ رائے بذاتِ خود غیر معمولی نہیں،قانون بھی اس امکان کو تسلیم کرتا ہے،اصل ادارہ جاتی سوال یہ ہے کہ اختلاف کس مرحلے پر محض اندرونی مشورہ رہتا ہے، کب باقاعدہ اختلافی رائے بنتا ہے اور عوام کو اس اختلاف کے بارے میں کتنی معلومات دی جاتی ہیں
تین دہائیوں کا ایک مستقل مسئلہ
سیشان سے لواسہ اور موجودہ کمیشن تک واقعات کی نوعیت مختلف رہی ہے،کہیں سوال چیف الیکشن کمشنر کے اختیارات کا تھا، کہیں کسی کمشنر کی سیاسی غیر جانب داری کا، کہیں انتخابی ضابطۂ اخلاق کے اطلاق کا اور اب کہیں داخلی اعتراضات کے ریکارڈ کا
اس پوری تاریخ سے ایک بات واضح ہوتی ہے،تین رکنی کمیشن کا ڈھانچہ اختلاف ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اختلاف کو ادارہ جاتی طریقے سے سنبھالنے کے لیے بنایا گیا ہے،قانون اتفاقِ رائے کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اختلاف کی صورت میں اکثریت کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے
اسی لیے موجودہ بحث کو صرف اس سوال تک محدود کرنا کہ “الیکشن کمیشن کے ارکان میں اختلاف کیوں ہوا؟” تصویر کا ایک حصہ ہوگا،زیادہ بنیادی سوال یہ ہے کہ بھارت جیسے دنیا کے سب سے بڑے انتخابی نظام میں ایک آئینی ادارے کے اندر اختلافی آواز کس حد تک دستاویزی، شفاف اور عوامی ہونی چاہیے
تاریخ بتاتی ہے کہ اختلافات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں،سیشان کے دور میں یہ اختلاف عدالت تک پہنچا، گوپال سوامی کے دور میں ایک ساتھی کمشنر کی غیر جانب داری پر سوال اٹھا، لواسہ کے معاملے میں اختلافی رائے کے ریکارڈ کا مسئلہ سامنے آیا اور 2024 میں ارون گوئل کے استعفے نے ایک بار پھر کمیشن کے اندرونی ماحول پر بحث چھیڑ دی
2026 کا تنازع اسی طویل سلسلے کی تازہ کڑی ہے،فرق صرف یہ ہے کہ اب بحث الیکشن کمیشن کے اندر اختلاف ہونے پر نہیں بلکہ اس اختلاف کی نوعیت، ریکارڈ اور عوام کے سامنے اس کی شفافیت پر مرکوز ہو رہی ہے





