مصنوعی ذہانت کا الزام، فرانس کے معروف ادبی انعام کی دوڑ سے کینیڈین مصنف کا ناول باہر
فرانس کے معروف ترین ادبی انعام گونکور کی دوڑ سے کینیڈین ہیٹی نژاد مصنف تھیلیسن اوریلین کا مقبول ناول مصنوعی ذہانت سے لکھے جانے کے الزامات کے بعد نکال دیا گیا ہے
38 سالہ تھیلیسن اوریلین کے ناول ’’یہ تھا یا مرنا‘‘ نے فرانس میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی تھی اور اسے گونکور انعام کی ابتدائی فہرست میں شامل کیا گیا تھا ناول اب تک تقریباً 35 ہزار نسخے فروخت کر چکا ہے اور اسے متعدد دیگر ادبی انعامات بھی مل چکے ہیں اس کے ترجمے کے حقوق 20 سے زیادہ ممالک میں فروخت کیے جا چکے ہیں
مصنوعی ذہانت کے استعمال کا الزام رواں ہفتے ایک گمنام ایکس اکاؤنٹ کی جانب سے لگایا گیا، جس نے دعویٰ کیا کہ ناول کے مختلف حصوں کو مصنوعی ذہانت کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر سے جانچنے پر انہیں بڑی حد تک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ قرار دیا گیا بعد میں اس اکاؤنٹ سے منسلک افراد میں فرانسیسی مصنف اور مضمون نگار سیموئل فیتوسی کا نام سامنے آیا
اوریلین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے ناول لکھنے کے الزام کی تردید کی ہے ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ناول پر 2017 میں کام شروع کیا اور 2019 میں اس کا ابتدائی مسودہ مکمل کر لیا تھا ان کے مطابق ان کی تحریر میں تکرار، تال اور تصویری انداز ہیٹی اور کیریبین ادبی روایت کا حصہ ہیں
تاہم معاملہ صرف مصنوعی ذہانت کے الزامات تک محدود نہیں رہا کینیڈا میں ان کی ایک پرانی تحریر کے حوالے سے سرقے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں مونٹریال کے اخبار لا پریس نے رپورٹ کیا کہ 2013 میں شائع ہونے والا ان کا ایک کالم چند روز قبل فلپائن اسٹار میں شائع ہونے والے مضمون کا بڑی حد تک ترمیم شدہ ترجمہ تھا ایک اور پرانی تحریر میں بھی دوسرے مصنف کی تحریر سے مماثلت کے دعوے سامنے آئے ہیں یہ الزامات موجودہ ناول سے الگ اور ایک دہائی سے زیادہ پرانی تحریروں سے متعلق ہیں
گونکور اکیڈمی نے کہا ہے کہ ناول کو مقابلے سے نکالنے کا فیصلہ انعام کی ساکھ اور ادبی معیار کے تحفظ کے لیے کیا گیا اکیڈمی کے مطابق متعدد محققین اور صحافیوں کے تجزیوں نے اس امکان کی طرف اشارہ کیا کہ ناول میں مصنوعی ذہانت کا وسیع استعمال ہوا ہے
تاہم مصنوعی ذہانت سے لکھی گئی تحریروں کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کی درستگی پر بھی سوالات موجود ہیں مختلف شناختی پروگراموں نے اسی ناول کے بارے میں مختلف نتائج دیے، بعض نے اسے انسانی تحریر قرار دیا جبکہ بعض نے مصنوعی ذہانت کے استعمال کا زیادہ امکان ظاہر کیا اس لیے صرف ایسے سافٹ ویئر کے نتائج کو حتمی ثبوت سمجھنے پر ماہرین میں اختلاف پایا جاتا ہے
کینیڈا میں ناول کے ناشر نے بھی اس معاملے پر تشہیری سرگرمیاں معطل کر دی ہیں ناشر کا کہنا ہے کہ وہ اس مرحلے پر الزامات کی تصدیق یا تردید نہیں کر سکتا اور کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ ناول کی فروخت البتہ جاری ہے
یہ معاملہ ادب کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے حوالے سے ایک بڑی بحث بن گیا ہے، جہاں یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ اگر کسی مصنف نے مصنوعی ذہانت سے قابل ذکر مدد حاصل کی ہو تو اسے اپنی تخلیق قرار دینے کی حدود کیا ہونی چاہئیں اور ادبی انعامات کے لیے انسانی تخلیق کی شرط کو کس طرح جانچا جائے






