امریکا کا کینیڈا پر فوجی حملہ، امکان صفر نہیں، ٹرمپ کے سابق مشیر
کینیڈا پر امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا جا سکتا، ٹرمپ کے سابق مشیر اور وائٹ ہاؤس کے سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر انتھونی سکاراموچی نے کہا ہے ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اس امکان کو ’’صفر‘‘ قرار دینا درست نہیں ہوگا، اگرچہ انہوں نے اسے ایک انتہائی غیر معمولی صورتحال قرار دیا
سکاراموچی نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں ان کی رائے یہ ہے کہ وہ غیر متوقع فیصلے کر سکتے ہیں، اسی لیے کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ سکاراموچی نے 2017 میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں صرف 11 دن کمیونیکیشن ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا تھا اور بعد میں وہ ٹرمپ کے شدید ناقد بن گئے
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم مارک کارنی نے حال ہی میں کہا تھا کہ کینیڈا کی حکومت نے اس انتہائی غیر معمولی خطرے کا جائزہ لیا ہے کہ امریکا کسی موقع پر کینیڈا کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے کارنی نے اسے معمول کا منظرنامہ قرار نہیں دیا بلکہ ’’انتہائی کم امکان والے خطرے‘‘ کے طور پر اس کی تیاری کو رسک مینجمنٹ کا حصہ قرار دیا تھا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں متعدد مرتبہ کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے کی بات کر چکے ہیں تاہم جنوری 2025 میں انہوں نے کینیڈا کو امریکا میں شامل کرنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرنے کے امکان کو مسترد کیا تھا اور اس مقصد کے لیے اقتصادی دباؤ کی بات کی تھی
دوسری جانب امریکی فوج کے اعلیٰ کمانڈر ایڈمرل سیموئل پاپارو نے رواں ماہ کینیڈا پر امریکی حملے کے سوال کو انتہائی غیر حقیقی قرار دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا امریکا کا قریبی اور انتہائی اہم اتحادی ہے اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں
الاسکا کے ریپبلکن گورنر مائیک ڈنلیوی نے بھی 25 ستمبر کو کینیڈا پر امریکی حملے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک عام امریکی کے لیے امریکا کی جانب سے کینیڈا پر حملہ انتہائی حیران کن بات ہوگی اسی موقع پر سابق کینیڈین قومی سلامتی اور انٹیلی جنس مشیر جوڈی تھامس نے بھی ممکنہ امریکی حملے کو انتہائی غیر معمولی صورتحال قرار دیا
تاہم امریکا اور کینیڈا کے درمیان موجودہ تجارتی کشیدگی نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں غیر معمولی تناؤ پیدا کیا ہے تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد امریکا نے کینیڈین مصنوعات پر نئے محصولات عائد کیے جبکہ کینیڈا نے بھی جوابی اقدامات کیے ہیں اسی پس منظر میں کینیڈا اپنے دفاعی نظام اور فوجی سازوسامان کے لیے امریکا پر انحصار کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے
رائٹرز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق کینیڈا سمیت نیٹو کے بعض ممالک امریکی دفاعی سازوسامان پر انحصار کم کرنے اور دوسرے ممالک سے دفاعی نظام خریدنے کی طرف بڑھ رہے ہیں کینیڈا نے آسٹریلیا سے آرکٹک ریڈار نظام خریدنے کا فیصلہ کیا ہے اور سویڈن کے ساتھ جدید نگرانی کے طیاروں کے معاہدے کی جانب بھی پیش رفت کی ہے
یوں تازہ بیانات میں ایک واضح فرق سامنے آتا ہے کینیڈین حکومت انتہائی کم امکان والے خطرات کی تیاری کو قومی سلامتی کا حصہ قرار دے رہی ہے، جبکہ امریکی اور کینیڈین دفاعی حکام کی جانب سے کینیڈا پر امریکی فوجی حملے کے امکان کو انتہائی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے اس کے باوجود واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان تجارتی، دفاعی اور سیاسی اختلافات نے کینیڈا میں امریکا پر طویل عرصے سے جاری دفاعی انحصار کے بارے میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے






