Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

غزہ میں کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی بھارت میں سیاحت، جنگی جرائم کے الزامات پر سوالات

غزہ میں کارروائیوں کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی بھارت میں سیاحت، جنگی جرائم کے الزامات پر سوالات

بھارت میں اسرائیلی فوجیوں کی سیاحت کے حوالے سے ایک نئی بحث سامنے آئی ہے، جہاں غزہ میں فلسطینی گھروں کی تباہی میں حصہ لینے والے بعض اسرائیلی فوجیوں کے بھارت جانے اور وہاں سیاحوں کے طور پر وقت گزارنے کا معاملہ زیر بحث آیا ہے مضمون کے مطابق 2024 میں غزہ میں کارروائیوں کے دوران گھروں کی تباہی میں حصہ لینے والے ایک اسرائیلی فوجی ایٹن گل بوا کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس کے بھارت کے سفر کی نشاندہی کی اور اس کی گرفتاری کے لیے بھارتی حکام کو شکایات بھیجیں، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور وہ بھارت سے روانہ ہوگیا
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کے ہماچل پردیش، راجستھان اور گوا کے بعض سیاحتی مقامات اسرائیلی سیاحوں میں خاصے مقبول ہیں ہماچل پردیش کے کاسول، پاروتی ویلی، دھرم کوٹ اور توش جبکہ راجستھان کے پشکر کو اسرائیلی سیاحوں کی آمد کے لیے معروف مقامات قرار دیا گیا ہے بعض حلقوں میں اسرائیلی سیاحوں کے اس روٹ کو ’’ہمس ٹریل‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہر سال تقریباً 80 ہزار اسرائیلی فوجی اور سیاح بھارت کا رخ کرتے ہیں، تاہم یہ تعداد مضمون میں موجود ایک دعوے پر مبنی ہے
مضمون کے مطابق غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے والے افراد کے بھارت آنے کا معاملہ اس وقت زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے جب بعض انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی فوجیوں پر جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہیں ایٹن گل بوا کے معاملے میں ہند راجب فاؤنڈیشن نے دستیاب تصاویر اور دیگر مواد کا جائزہ لے کر ہماچل پولیس، بھارتی وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام سے کارروائی کی درخواست کی تھی
بھارت اور اسرائیل کے تعلقات بھی گزشتہ برسوں میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور سیاسی تعاون کے شعبوں میں مضبوط ہوئے ہیں مضمون میں اس تعلق کو دونوں ممالک کے درمیان نظریاتی اور سیاسی قربت کے تناظر میں بھی دیکھا گیا ہے مصنفہ نے بھارت کے ہندو قوم پرستانہ نظریے اور اسرائیلی قوم پرستانہ سیاست کے درمیان بعض مماثلتوں کی نشاندہی کی ہے، تاہم یہ حصہ مضمون نگار کا تجزیہ ہے، کوئی عدالتی فیصلہ یا غیر جانب دار سرکاری نتیجہ نہیں
رپورٹ میں بھارت کے شہریت ترمیمی قانون کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس کے تحت بعض پڑوسی ممالک سے آنے والے مخصوص غیر مسلم افراد کے لیے بھارتی شہریت حاصل کرنے کا راستہ آسان کیا گیا، جبکہ مسلمان اس سہولت میں شامل نہیں تھے مضمون میں اس پالیسی کو اسرائیل کے 2018 کے قوم ریاست قانون کے ساتھ جوڑ کر دیکھا گیا ہے
غزہ جنگ کے حوالے سے اسرائیلی فوجیوں کے بیرون ملک سفر کا مسئلہ پہلے بھی سامنے آتا رہا ہے انسانی حقوق کی بعض تنظیمیں ایسے فوجیوں کے خلاف ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی رہی ہیں، جبکہ اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں کو حماس کے خلاف جنگ اور اپنے شہریوں کے دفاع کے تناظر میں بیان کرتا ہے
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر کسی فوجی پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے قابل اعتماد شواہد موجود ہوں تو بیرون ملک اس کی موجودگی کے دوران متعلقہ ریاستیں کس حد تک قانونی کارروائی کر سکتی ہیں بھارت میں ایٹن گل بوا کے معاملے میں شکایت کے باوجود گرفتاری نہ ہونے سے یہی بحث دوبارہ سامنے آئی ہے

قومی خبریں سے مزید