Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کینیڈا کے 9 اسلامی اسکولوں کو مسلمانوں کے قتل کی دھمکی، پولیس نے سکیورٹی بڑھا دی

کینیڈا کے 9 اسلامی اسکولوں کو مسلمانوں کے قتل کی دھمکی، پولیس نے سکیورٹی بڑھا دی

کینیڈا میں مسلم ایسوسی ایشن آف کینیڈا کے زیر انتظام 9 اسلامی اسکولوں کو ایک ہی نوعیت کی دھمکی آمیز ای میل موصول ہونے کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے یہ ای میل اونٹاریو، برٹش کولمبیا اور کیوبیک کے اسکولوں کو تقریباً 24 گھنٹوں کے دوران بھیجی گئی، جبکہ پولیس نے مختلف علاقوں میں تحقیقات شروع کر دی ہیں
دھمکی آمیز پیغام میں مسلمانوں کے خلاف انتہائی تشدد کی دھمکی دی گئی اور کینیڈا کو ’’اسلام سے پاک‘‘ کرنے کی بات کی گئی۔ پیغام پر ’’سٹیزن ویجیلانٹے‘‘ کے نام سے دستخط کیے گئے تھے۔ مسلم ایسوسی ایشن کے ترجمان نبیل سلطان کے مطابق تنظیم کو پہلے بھی اسلام مخالف اور دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوتے رہے ہیں، تاہم اسکولوں کو اس طرح براہ راست نشانہ بنانا انتہائی تشویش ناک ہے
مسلم ایسوسی ایشن نے طلبہ کے تحفظ کے لیے نجی سکیورٹی بھی تعینات کر دی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس کو اطلاع دے دی گئی ہے اور اسکولوں میں معمول کی تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم حفاظتی اقدامات میں اضافہ کیا گیا ہے
پییل ریجنل پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اسے اسلامی اداروں کے خلاف نفرت پر مبنی دھمکی آمیز خط سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پولیس کے نفرت انگیز جرائم کے یونٹ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ مساجد اور اسکولوں کے قریب پولیس گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جو ہفتے کے اختتام تک جاری رہنے کی توقع ہے
لندن اور واٹرلو کی پولیس بھی اسلامی اسکولوں کو بھیجی گئی دھمکیوں کی تحقیقات کر رہی ہیں واٹرلو پولیس کے مطابق افسران نے ایک اسکول کا دورہ کر کے انتظامیہ کے ساتھ حفاظتی منصوبہ بندی کی اوٹاوا پولیس نے بھی ان مقامات پر اپنی موجودگی بڑھا دی ہے جہاں دھمکی آمیز خطوط موصول ہوئے، تاہم پولیس کے مطابق فی الحال کسی مخصوص یا فوری خطرے کی نشاندہی نہیں ہوئی
کینیڈا کے وزیر برائے عوامی تحفظ گیری آننداسنگری نے ان دھمکیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر بچے کو محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے اور ہر خاندان کو اپنے بچوں کو اطمینان کے ساتھ اسکول بھیجنے کا حق ہے
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2024 کے درمیان مسلمانوں کے خلاف پولیس کو رپورٹ ہونے والے نفرت انگیز جرائم میں 170 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا
مسلم ایسوسی ایشن کے ترجمان نے کہا کہ دھمکیوں کے باعث بعض طلبہ خود کو خوف زدہ اور غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں انہوں نے 2017 میں کیوبیک سٹی کی مسجد میں فائرنگ اور 2021 میں لندن، اونٹاریو میں افضل خاندان کے افراد کے قتل سمیت ماضی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم کمیونٹی کے لیے ایسی دھمکیوں کو محض الفاظ سمجھ کر نظر انداز کرنا ممکن نہیں
پولیس مختلف صوبوں میں موصول ہونے والی دھمکیوں کے درمیان تعلق اور پیغام بھیجنے والے فرد یا افراد کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے فی الحال حکام نے کسی گرفتاری یا کسی مخصوص فوری حملے کے خطرے کی اطلاع نہیں دی

قومی خبریں سے مزید