گوتریس کا اقوام متحدہ میں آخری خطاب، ’’سپر پاورز بھی دنیا کے مسائل حل نہیں کر سکتیں‘‘
اقوام متحدہ کے سبکدوش ہونے والے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں دنیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات اب محض دراڑیں نہیں رہے بلکہ گہری خلیج میں تبدیل ہو چکے ہیں، جبکہ بڑی طاقتیں خود بھی اتنی فوجی، اقتصادی اور تکنیکی طاقت نہیں رکھتیں کہ دنیا کے تمام مسائل حل کرسکیں یا عالمی سلامتی کی ضمانت دے سکیں
22 ستمبر کو 81ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گوتریس نے اپنی تقریباً ایک دہائی پر محیط مدت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران جنگیں پھوٹیں، جن کے تباہ کن نتائج سامنے آئے اور کئی تنازعات انتہائی سفاکی کے ساتھ طویل ہوتے گئے
گوتریس نے کہا کہ جنگوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، انسانی حقوق پامال ہوئے، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا اور امدادی کارکن بھی مارے گئے،ان کے مطابق بین الاقوامی قوانین اور اداروں پر اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے
گوتریس نے عالمی صورتحال کو مایوسی کے تناظر میں بیان کرنے کے باوجود امید کا پہلو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ موجودہ بحرانوں کے باوجود دنیا کے پاس تعاون، سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں کو مضبوط بنانے کے راستے موجود ہیں
انہوں نے خبردار کیا کہ آج دنیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور کوئی ایک ملک یا طاقتوں کا محدود گروپ عالمی مسائل کا اکیلے حل نہیں نکال سکتا،ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، جنگیں، غربت، بھوک، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے مسائل سرحدوں سے ماورا ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے اجتماعی عالمی اقدامات ضروری ہیں
گوتریس نے اقوام متحدہ کے کردار کے دفاع میں کہا کہ ادارے میں خامیاں ضرور ہیں، لیکن دنیا کو ایسے عالمی فورم کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے جہاں ممالک اختلافات کے باوجود بات چیت کرسکیں،انہوں نے عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور تعاون کو ترجیح دیں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے گوتریس کی مدت 31 دسمبر 2026 کو ختم ہو رہی ہے،اس لیے جنرل اسمبلی سے ان کا یہ خطاب ان کے عہدے کی مدت کے دوران آخری اعلیٰ سطحی جنرل اسمبلی خطاب تھا،ان کے خطاب کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ موجودہ عالمی بحرانوں کے دور میں طاقتور ممالک بھی تنہا دنیا کو محفوظ یا مستحکم نہیں بنا سکتے، اور عالمی مسائل کے حل کے لیے کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے





