مودی کا کینیڈا کا دورہ طے، کارنی کی بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں، امریکا کینیڈین پوٹاش خریدتا رہے گا
وزیراعظم مارک کارنی نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 2026 میں کینیڈا کا دورہ کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کئی سال کی کشیدگی کے بعد حالیہ مہینوں میں دوبارہ بہتری آ رہی ہے اور دونوں حکومتیں تجارت، توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی اور معدنی وسائل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں
مودی کے دورے کی دعوت کارنی نے مارچ میں اپنے بھارت کے سرکاری دورے کے دوران دی تھی، جبکہ جون میں دونوں رہنماؤں کی فرانس میں جی 7 اجلاس کے موقع پر ملاقات کے دوران بھی مودی نے کینیڈا آنے کی دعوت قبول کرنے اور مناسب تاریخ طے کرنے پر اتفاق کیا تھا
کینیڈا اور بھارت کے تعلقات 2023 میں اس وقت شدید متاثر ہوئے تھے جب اس وقت کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈا میں سکھ علیحدگی پسند رہنما ہردیپ سنگھ نجّر کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے ممکنہ ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے تھے بھارت نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی اب کارنی حکومت نے تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے اور معاشی تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے
مارچ میں کارنی اور مودی نے نئی دہلی میں ملاقات کے دوران تجارت، توانائی، دفاع اور ٹیکنالوجی سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا تھا دونوں ممالک جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے پر مذاکرات آگے بڑھا رہے ہیں اور 5 سال میں باہمی تجارت دوگنی کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے
توانائی کے شعبے میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے کینیڈا بھارت کو یورینیم، تیل اور مستقبل میں ایل این جی سمیت مختلف توانائی وسائل فراہم کرنے کے امکانات بڑھا رہا ہے کینیڈا کی کمپنی کیمی کو اور بھارت کے محکمہ جوہری توانائی کے درمیان 2.6 ارب کینیڈین ڈالر کا طویل مدتی یورینیم معاہدہ بھی اس نئے تعاون کا حصہ ہے
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کینیڈا سے پوٹاش خریدتا رہے گا، اگرچہ وہ بیلاروس سے کم قیمت پر پوٹاش حاصل کرنے کے امکان پر بھی غور کر رہے ہیں پوٹاش کھاد کی تیاری میں استعمال ہونے والی اہم معدنی شے ہے اور کینیڈا دنیا میں اس کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، جبکہ امریکا کینیڈا کی پوٹاش کا سب سے بڑا خریدار ہے
ٹرمپ نے ایک روز قبل بیلاروس سے سستی پوٹاش خریدنے کی بات کی تھی لیکن بعد میں واضح کیا کہ امریکا کینیڈا سے خریداری جاری رکھے گا اور ساتھ ہی بیلاروس سے کم قیمت پر سپلائی حاصل کرنے کا امکان بھی دیکھ رہا ہے کینیڈین وزیراعظم کارنی نے کہا کہ کینیڈا کی پوٹاش قابل اعتماد اور لاگت کے لحاظ سے مؤثر ہے اور دونوں ملک اس شعبے میں مزید تعاون کر سکتے ہیں
کینیڈا کی تمام پوٹاش سسکیچیوان میں پیدا ہوتی ہے سسکیچیوان کے پریمیئر اسکاٹ مو نے بیلاروس سے پوٹاش خریدنے کی ابتدائی امریکی تجویز پر اعتراض کیا تھا اور بیلاروس کے روس کے ساتھ تعلقات اور یوکرین جنگ میں اس کے کردار کو بھی اس معاملے سے جوڑا تھا بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے بھی کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کو بہت بڑی مقدار میں پوٹاش فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا





