سویڈن میں مسلمان کی انتخابی کامیابی نے نظام ہی الٹ دیا ، دھاندلی کی تحقیقات، 11 پارلیمانی نشستیں خطرے میں، تاریخ میں پہلی بار دوبارہ الیکشن کا امکان
سویڈن میں 13 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے پر مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات نے سوالات کھڑے کر دیے ہیں،مرکزی سویڈن کے صوبے دلارنا کے شہر بورلنگے میں پراسیکیوٹرز نے ممکنہ انتخابی دھاندلی کی ابتدائی تحقیقات دوبارہ شروع کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں پورے صوبے کی 11 پارلیمانی نشستوں پر دوبارہ انتخاب یا ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا معاملہ پیدا ہو سکتا ہے
یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ 13 ستمبر کے قومی انتخابات میں مرکز بائیں اتحاد نے 176 نشستیں حاصل کرکے دائیں بازو کے اتحاد کی 173 نشستوں کے مقابلے میں صرف 3 نشستوں کی برتری حاصل کی تھی،دلارنا میں مرکز بائیں دھڑے نے 6 جبکہ دائیں بازو کے دھڑے نے 5 نشستیں جیتی تھیں
تحقیقات کا مرکز لیفٹ پارٹی کے امیدوار محمد عبدالقادر علی کا انتخاب ہے، جو غیر متوقع طور پر اپنی پارٹی کی فہرست میں دوسرے امیدواروں کو پیچھے چھوڑ کر پارلیمنٹ کی نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے،سویڈن کے انتخابی نظام میں ووٹر کسی پارٹی کو ووٹ دینے کے ساتھ اسی پارٹی کی فہرست میں موجود کسی مخصوص امیدوار کے نام کے سامنے ذاتی ووٹ بھی ڈال سکتے ہیں
سویڈش میڈیا کے مطابق کئی سو ووٹرز نے علی کے نام کے سامنے نشان لگایا، جبکہ ایسے الزامات بھی سامنے آئے کہ بعض ووٹرز کو پہلے سے نشان لگے ہوئے بیلٹ پیپر دیے گئے تھے،سویڈش نشریاتی ادارے SVT کے مطابق علی کو مجموعی طور پر 648 ذاتی ووٹ ملے،ان کے بارے میں یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض افراد کو ان کے حق میں ووٹ دینے پر رقم کی پیشکش کی گئی، تاہم SVT نے واضح کیا ہے کہ ادائیگی سے متعلق یہ دعویٰ مختلف ذرائع سے سامنے آیا ہے
محمد عبدالقادر علی نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سویڈش ٹی وی سے کہا کہ یہ دعوے ’’بالکل غلط‘‘ ہیں،ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی،رائٹرز کے مطابق تحقیقات کے اس مرحلے تک کسی شخص کو مشتبہ قرار نہیں دیا گیا
دلچسپ بات یہ ہے کہ انتخابی دھاندلی کی شکایت 1 ستمبر کو پراسیکیوٹرز کے پاس پہنچی تھی، یعنی انتخابات سے تقریباً دو ہفتے پہلے،ابتدائی طور پر ثبوت ناکافی ہونے کی وجہ سے تحقیقات بند کردی گئی تھیں، لیکن اس ہفتے نئی معلومات سامنے آنے کے بعد انہیں دوبارہ کھول دیا گیا،13 ستمبر کو بھی دلارنا کی انتظامیہ کو انتخابی دھاندلی سے متعلق ایک واقعے کی اطلاع دی گئی جس کے بعد پولیس شکایت درج ہوئی
لیفٹ پارٹی نے تحقیقات مکمل ہونے تک علی کو پارلیمانی ذمہ داریاں سنبھالنے سے روک دیا ہے،پارٹی کی سیکریٹری ماریا فورسبرگ کے مطابق علی نئی پارلیمانی مدت کے آغاز سے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے خدمات انجام نہیں دیں گے
اب فیصلہ سویڈن کے Election Review Board کے سامنے آ سکتا ہے،اگر بورڈ یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ انتخابی عمل یا نتیجہ متاثر ہوا ہے تو دلارنا میں دوبارہ ووٹنگ یا ووٹوں کی دوبارہ گنتی کا حکم دیا جا سکتا ہے،رائٹرز کے مطابق سویڈن کی تاریخ میں قومی پارلیمانی انتخابات کا دوبارہ انعقاد پہلے کبھی نہیں ہوا،اگر دوبارہ انتخاب کا حکم دیا گیا تو اسے اصل انتخابات کے تین ماہ کے اندر کرانا ہوگا
تاہم اس وقت دوبارہ الیکشن کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور انتخابی جائزہ بورڈ نے بھی کہا ہے کہ معاملے پر تبصرہ کرنا ابھی قبل از وقت ہے،تحقیقات ابتدائی مرحلے میں ہیں اور کسی مشتبہ شخص کی شناخت نہیں کی گئی
یہ تحقیقات سویڈن میں حکومت سازی کے ایک انتہائی معمولی پارلیمانی فرق کے پس منظر میں سامنے آئی ہیں،انتخابات کے بعد موجودہ وزیراعظم الف کرسٹرسن نے استعفیٰ دے دیا، جبکہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نے سابق وزیراعظم اور سوشل ڈیموکریٹ رہنما میگڈالینا اینڈرسن کو نئی حکومت بنانے کی کوشش کی ذمہ داری سونپی ہے
یوں فی الحال سویڈن کا قومی انتخابی نتیجہ برقرار ہے اور مرکز بائیں دھڑے کو 176 نشستوں کے ساتھ تین نشستوں کی پارلیمانی برتری حاصل ہے، لیکن دلارنا میں جاری تحقیقات نے 11 نشستوں سے متعلق ایک غیر معمولی قانونی اور انتخابی سوال ضرور پیدا کر دیا ہے،اگر دوبارہ ووٹنگ کا حکم دیا گیا تو یہ سویڈن کے پارلیمانی انتخابی نظام کی تاریخ میں ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا، سوئیڈن پارلیمنٹ کے مسلمان ممبر محمد عبدالقادر علی صومالیہ سے تعلق رکھنے والے 30 سالہ سیاست دان ہیں اور سویڈن کے شہر بورلنگے میں مقیم ہیں،TV4 کے مطابق انہوں نے 2012 میں سویڈن میں رہنے کی اجازت کے لیے درخواست دی، 2013 میں مستقل رہائش کا اجازت نامہ حاصل کیا اور رواں سال فروری میں انہیں سویڈش شہریت ملی،وہ تقریباً ایک سال قبل لیفٹ پارٹی میں شامل ہوئے اور پارٹی میں کوئی طویل سیاسی تجربہ یا بڑا عہدہ نہیں رکھتے تھے،13 ستمبر کے انتخابات میں پارٹی کی فہرست میں نویں نمبر پر ہونے کے باوجود انہیں 648 ذاتی ووٹ ملے، جس کے نتیجے میں وہ فہرست میں پہلے نمبر پر آکر پارلیمنٹ پہنچ گئے





