نیویارک میں پاکستان کی سفارتی دوڑ: شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، اسحاق ڈار کی غزہ، ایران اور افغانستان پر سرگرم سفارت کاری
نیویارک میں اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی کے پہلے بڑے سفارتی دن پاکستان نے بھی غیر معمولی طور پر مصروف سفارتی سرگرمی دکھائی، جہاں وزیراعظم شہباز شریف نے کینیا، کویت، آسٹریا اور صومالیہ کی قیادت سے رابطے کیے، جبکہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے غزہ، افغانستان، ایران اور خلیج کی بدلتی صورتحال پر متعدد اہم اجلاسوں میں پاکستان کا مؤقف پیش کیا،وزیراعظم 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، اس لیے آج کی ملاقاتیں ان کے باضابطہ خطاب سے پہلے پاکستان کے سفارتی ایجنڈے کی سمت کا ابتدائی اشارہ بھی بن گئیں
وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ولیم روٹو سے ملاقات میں پاکستان اور کینیا کے تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، تعلیم اور عوامی روابط بڑھانے پر بات ہوئی،شہباز شریف نے دواسازی، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات اور زراعت سمیت کئی شعبوں میں تجارتی امکانات کا ذکر کرتے ہوئے کینیا کے سرمایہ کاروں کو پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری کی دعوت دی،انہوں نے مشرقی افریقی خطے کے ساتھ پاکستان کے روابط بڑھانے میں کینیا کی اہمیت پر بھی زور دیا،کینیا کے صدر نے حالیہ مغربی ایشیا اور خلیجی بحران میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا
کویت کے ولی عہد شیخ صباح خالد الحمد الصباح سے ملاقات میں وزیراعظم نے دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر زور دیا،بات چیت میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات زیر بحث آئے،دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ سمیت علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا
وزیراعظم نے آسٹریا کے چانسلر کرسٹیان اسٹوکر اور صومالیہ کے صدر حسن شیخ محمود سے بھی الگ الگ غیر رسمی ملاقاتیں کیں،ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر گفتگو ہوئی،پاکستانی حکام کے مطابق دونوں ملاقاتیں دوستانہ ماحول میں ہوئیں اور جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماؤں سے براہ راست رابطوں کا حصہ تھیں
دوسری جانب اسحاق ڈار کی سفارتی مصروفیات زیادہ تر ان بحرانوں کے گرد رہیں جو اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مرکز میں ہیں،انہوں نے کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور علاقائی امن پر بات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا
فلسطین کے معاملے پر OIC Committee of Six کے اجلاس میں ڈار نے غزہ کے لیے امن منصوبے پر مکمل عملدرآمد اور متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل کا مطالبہ کیا،انہوں نے غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال، مسجد اقصیٰ اور حرم الشریف سے متعلق معاملات، مغربی کنارے میں آبادکاری اور فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا،پاکستان نے فلسطینیوں کی قیادت میں غزہ کی تعمیر نو اور انتظامی بندوبست کی حمایت کا اعادہ کیا اور آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کو پاکستان کی مستقل پالیسی قرار دیا
افغانستان کے بارے میں OIC رابطہ گروپ کے اجلاس میں اسحاق ڈار نے افغان سرزمین کو پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کا مطالبہ کیا،انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے، دہشت گرد گروہوں کی حمایت روکے اور افغانستان میں زیادہ وسیع سیاسی شمولیت یقینی بنائے،ڈار نے افغان خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور افغانستان کی انسانی و معاشی ضروریات کے لیے عالمی تعاون میں اضافے پر بھی زور دیا
خلیج اور ایران کے بحران کے تناظر میں بھی پاکستان کی سفارت کاری نمایاں رہی،ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات کے بعد چاروں ملکوں نے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی، خطے میں محفوظ بحری آمدورفت کی اہمیت پر زور دیا اور یمن کے حوثی حملوں سمیت جاری علاقائی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی۔ مشترکہ مؤقف میں یہ بھی کہا گیا کہ پائیدار حل کا راستہ مذاکرات اور سفارت کاری سے ہی نکل سکتا ہے
یوں نیویارک میں پاکستان کی آج کی سفارتی سرگرمی دو متوازی سطحوں پر چلتی دکھائی دی،وزیراعظم نے افریقہ، خلیج اور یورپ کی قیادت سے دوطرفہ معاشی اور سیاسی روابط بڑھانے پر توجہ دی، جبکہ نائب وزیراعظم نے فلسطین، افغانستان اور مشرق وسطیٰ کے جاری بحرانوں پر پاکستان کا سفارتی مؤقف آگے بڑھایا،اس سب کے پس منظر میں پاکستان خود کو صرف ایک مبصر کے طور پر نہیں بلکہ خطے میں جاری تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں میں شریک ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ وزیراعظم کا اصل عالمی خطاب ابھی 25 ستمبر کو ہونا ہے





