ملک میں امن و عامہ کی صورتحال ، حالات قابو سے باہر ۔ ملکی حالات کو کنٹرول کرنے کیلئے مختلف آپشنز پر غور ؟
ملک میں داخلی انتشار اور صوبوں میں امن و عامہ کی بگڑتی صورتحال اور معیشت کی زبوں حالی کی وجہ سے مقتدرہ موجودہ سسٹم کو لپیٹ کر حالات کو کنٹرول کرنے کی نئی حکمت عملی پر غور کر رہی ہے۔ حکومت میں شامل دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی بدترین کارکردگی اور اربوں کھربوں روپوں کی مُبینہ کرپشن کی کہانیوں سامنے آنے سے مہنگائی اور بدحالی کے مارے عام عوام کی برداشت اور آہ و بکا آخری حدوں کو چھو گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ریاست اور ملک کی سلامتی کے ذمہ داروں کے پاس جو چند چوائس رہ گئے ہیں ان میں ایک آپشن ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پی ٹی آئی کو واپس مین سٹریم پولیٹیکس میں لا کر ملک میں استحکام لانا، دوسرا آپشن تمام سیاسی جماعتوں سے قابل اور اچھی شہرت کے مالک افراد پر مشتمل قومی حکومت کی تشکیل جبکہ آخری آپشن اپنی مخصوص وفا دار ٹیم کیساتھ انتہائی سختی سے ملک میں قوانین کا اطلاق یا براہ راست حکومتی معاملات پر کنٹرول ہے ۔ پہلی آپشن میں اسوقت معاملہ کچھ لو کچھ دو سے آگے چلا گیا ہے ، پابند سلاسل سابق وزیر اعظم عمران خان کو موجودہ حکومت کی کمزوریوں اور ملک کے بگڑتے حالات کا پوری طرح ادراک ہے، اگرچہ وہ اقتدار میں واپسی یا فوری غیر جانبدارانہ انتخابات سے کم بات یا ڈیل کرنے کو تیار نہیں ہیں تاہم ملکی مفاد میں وہ کچھ لچک دکھانے کو تیار ہو سکتے ہیں تاہم انکو دی جانے والی رعایت کچھ لوگوں کو شاید قابل قبول نہ ہو ۔ سسٹم کی تبدیلی یا اُسے لپٹنے سے متعلق آپشن سے سوال پیدا ہوتا ہے کیا نظام بدلنے یا سسٹم کو ری ویمپ کرنے سے ملک میں پھیلا داخلی انتشار ختم ، امن و عامہ کی صورتحال اور معیشت میں بہتری ہو سکے گی ؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ صاحب اقتدار سیاسی پارٹیوں کے لیڈران کو ملک کی حالت زار اور اپنی نامقبولیت کا بخوبی علم ہے، مگر وہ اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے کسی بھی سیاسی مفاہمت سے گریز کر رہے ہیں ۔ جبکہ ریاست چلانے والے اصل کردار جو سمجھتے تھے کہ سیاسی کاریگروں کو سامنے رکھنے سے انکا بھرم ، شفافیت اور دبدبہ قائم رہے گا ، انکے چہرے بھی بےنقاب ہو رہے ہیں جس وجہ سے پورا نظام بے یقینی کا شکار نظر آ رہا ہے ۔





