نیویارک میں پاکستان کی یورپ سے اہم سفارتی پیش رفت، GSP+ کے ساتھ 65 ملین یورو کا نیا باب
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں میں نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے,نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی خارجہ و سکیورٹی پالیسی کی سربراہ اور یورپی کمیشن کی نائب صدر کاجا کالس سے ملاقات میں پاکستان کے لیے یورپی منڈی میں ترجیحی تجارتی رسائی، علاقائی بحران اور سفارتی کوششوں پر بات کی، جبکہ اسی روز پاکستان اور یورپی یونین نے مجموعی طور پر 65 ملین یورو کے تین مالیاتی معاہدوں پر بھی دستخط کیے
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے یورپی یونین کے ساتھ شراکت داری، بالخصوص تجارت اور اقتصادی تعاون کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے GSP+ کو پاکستان کی یورپی تجارتی پالیسی کا اہم ستون قرار دیا،دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا اور یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے لیے کوششوں کو تسلیم کرنے کا خیرمقدم کیا،ڈار نے تمام فریقوں پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عمل درآمد اور تنازعات کے حل کے لیے دوبارہ مذاکرات اور سفارت کاری کی طرف واپسی پر زور دیا
ملاقات کا وقت خاص اہمیت رکھتا ہے،جون 2026 میں اسلام آباد میں پاکستان اور یورپی یونین کے آٹھویں اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت بھی اسحاق ڈار اور کاجا کالس نے کی تھی،اس موقع پر کالس نے کہا تھا کہ یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور GSP+ کے تحت ترجیحی رسائی جاری رکھنے کے لیے بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد میں پیش رفت ضروری ہے
اب نیویارک میں ہونے والی نئی ملاقات کے ساتھ اقتصادی تعلقات کے عملی پہلو میں بھی پیش رفت سامنے آئی ہے، پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک پریس ریلیز کے مطابق یورپی یونین نے آج پاکستان کے ساتھ 65 ملین یورو کے تین گرانٹ معاہدوں کا اعلان کیا،یورپی یونین کے مطابق ان پروگراموں میں پاکستان میں Global Gateway سرمایہ کاری، خیبر پختونخوا میں توانائی اور قدرتی ماحول کی لچک، جبکہ قانون کی حکمرانی اور کاروباری ماحول کی بہتری شامل ہے،یورپی یونین کے مطابق اس پیکیج کا مقصد اقتصادی و توانائی کی ترقی کے ساتھ قانون کی حکمرانی کو بھی مضبوط بنانا ہے
یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب پاکستان GSP+ کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم مرحلے میں داخل ہو رہا ہے،یورپی یونین کا موجودہ تجارتی ترجیحی نظام پاکستان کو یورپی منڈی تک غیر معمولی ترجیحی رسائی دیتا ہے، لیکن یورپی فریق نے پہلے ہی واضح کر رکھا ہے کہ اس رسائی کے ساتھ انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی اور دیگر بین الاقوامی ذمہ داریوں سے متعلق شرائط بھی وابستہ ہیں،جون میں کاجا کالس نے خود کہا تھا کہ GSP+ کے تحت ترجیحی رسائی ’’واضح شرائط‘‘ سے منسلک ہے
یوں آج نیویارک میں ہونے والی ملاقات کو صرف ایک معمول کی سفارتی ملاقات سمجھنا مشکل ہے،ایک ہی دن میں پاکستان نے یورپی یونین کے اعلیٰ ترین خارجہ پالیسی عہدیدار سے GSP+ اور علاقائی بحران پر براہ راست بات کی اور اسلام آباد کو 65 ملین یورو کے نئے یورپی مالیاتی تعاون کا اعلان بھی سامنے آیا
دوسری طرف علاقائی بحران نے پاکستان اور یورپ کے تعلقات میں ایک نیا پہلو بھی پیدا کر دیا ہے،پاکستان خود کو خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات بحال کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے سفارتی رابطہ کار کے طور پر پیش کر رہا ہے، جبکہ یورپی یونین بھی پاکستان کے ساتھ علاقائی اور عالمی معاملات پر مشاورت بڑھا رہی ہے،جون میں یورپی یونین نے پاکستان کو ایک اہم علاقائی شراکت دار قرار دیا تھا اور دونوں فریقوں نے مشرق وسطیٰ سمیت عالمی بحرانوں پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا
پاکستان کے لیے اس ملاقات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کا یورپی یونین کے ساتھ تعلق اب صرف GSP+ تک محدود نہیں رہا،تجارت اور برآمدات کے ساتھ توانائی، سرمایہ کاری، قانون کی حکمرانی، علاقائی سلامتی اور سفارت کاری بھی دوطرفہ ایجنڈے کا حصہ بن چکے ہیں
نیویارک میں ہونے والی اس ملاقات اور 65 ملین یورو کے نئے معاہدوں سے بظاہر یہ اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین ایک ایسے وقت میں اپنے تعلقات کو وسیع تر بنیاد دینے کی کوشش کر رہے ہیں جب خطے میں جنگ، توانائی کی سلامتی اور عالمی تجارت ایک دوسرے سے پہلے سے کہیں زیادہ جڑ چکے ہیں






