Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ایران بحران کے بیچ پاکستان کی سفارتی دوڑ، فرانس سے بھی محفوظ بحری راستوں اور توانائی کی فراہمی پر بات، پاکستانی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ کی ملاقات

ایران بحران کے بیچ پاکستان کی سفارتی دوڑ، فرانس سے بھی محفوظ بحری راستوں اور توانائی کی فراہمی پر بات، پاکستانی اور فرانسیسی وزرائے خارجہ کی ملاقات

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان نے ایران سے متعلق علاقائی بحران پر اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے پیر کو فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نوئل بارو سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ ایران کی صورتحال، علاقائی سفارت کاری، سمندری راستوں اور توانائی کی بلا تعطل فراہمی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے ایران کی صورتحال کے تناظر میں مسلسل سفارتی رابطے اور علاقائی سطح پر بحران کے حل کی کوششوں کی اہمیت پر اتفاق کیا،دونوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کو بھی اہم قرار دیا، جو جون 2026 میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کا نام ہے
ملاقات کا ایک اہم پہلو بحری تجارت اور توانائی کی فراہمی کا مسئلہ تھا،دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ بحری ٹریفک محفوظ اور بلا رکاوٹ رہے اور توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو، کیونکہ خطے میں جاری کشیدگی کے عالمی معیشت، سپلائی چینز اور ترقی پذیر ممالک پر وسیع اثرات مرتب ہو سکتے ہیں
یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے،رائٹرز کے مطابق 20 ستمبر کے اختتام ہفتے میں صرف 17 اجناس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ اس سے پہلے ہفتے یہ تعداد 37 اور جنگ سے پہلے اوسطاً تقریباً 125 جہاز روزانہ تھی۔ باب المندب میں بھی بحری ٹریفک میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے
پاکستان نے اس معاملے پر فرانس سے رابطے سے قبل ایران کے ساتھ بھی براہ راست سفارتی رابطہ کیا تھا،19 ستمبر کو اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور تجارتی جہازوں کی محفوظ اور تیز رفتار آمدورفت کی ضرورت پر زور دیا تھا،دونوں نے نیویارک میں مزید رابطے پر بھی اتفاق کیا تھا
اس ترتیب سے دیکھا جائے تو نیویارک میں فرانسیسی وزیر خارجہ سے ملاقات محض پاک فرانس تعلقات تک محدود نہیں رہتی،پاکستان ایک طرف ایران کے ساتھ براہ راست رابطہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف مغربی طاقتوں کے ساتھ بھی اس بحران کے سفارتی حل، بحری راستوں کے تحفظ اور عالمی توانائی کی سپلائی کے معاملے پر رابطہ بڑھا رہا ہے
پاکستان کے لیے معاملہ خاص طور پر حساس ہے۔ ایک طرف وہ ایران کا ہمسایہ ہے اور تہران کے ساتھ سفارتی رابطہ برقرار رکھنا چاہتا ہے، دوسری طرف سعودی عرب کے ساتھ اس کے نئے دفاعی تعاون اور خلیج میں توانائی کے راستوں کی سلامتی کے حوالے سے اس کے اپنے معاشی اور علاقائی مفادات وابستہ ہیں،رائٹرز کے مطابق پاکستان پہلے ہی ایران پر زور دے چکا ہے کہ سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کو روکا جائے، جبکہ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ وہ علاقائی کشیدگی کو سفارت کاری کے ذریعے کم کرنے کا خواہاں ہے
فرانسیسی وزیر خارجہ نے ملاقات میں پاکستان کی علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کو سراہا اور علاقائی فورمز کے ذریعے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی اہمیت سے اتفاق کیا،دونوں ملکوں نے دوطرفہ سیاسی رابطوں، تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم اور عوامی روابط میں اضافے پر بھی اتفاق کیا
یوں نیویارک میں ہونے والی یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان کی سفارت کاری بیک وقت کئی سمتوں میں چل رہی ہے،تہران سے براہ راست رابطہ، واشنگٹن اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی حمایت، خلیج میں بحری آمدورفت اور توانائی کی حفاظت، اور یورپی ممالک کو بحران کے سفارتی حل کے لیے ساتھ رکھنے کی کوشش
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا یہ ہفتہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اسحاق ڈار کو پاکستان کی جانب سے علاقائی اور عالمی بحرانوں پر متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت کرنا ہے،وزارت خارجہ کے مطابق وہ کشمیر اور فلسطین سمیت مختلف علاقائی معاملات پر اجلاسوں میں شرکت کے علاوہ کئی ممالک کے وزرائے خارجہ سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے

قومی خبریں سے مزید