پاکستان اور جنوبی ایشیا میں آمریت کیوں جڑ نہیں پکڑ سکی، جبکہ مشرق وسطیٰ میں طویل حکمرانی عام رہی؟
پاکستان اور جنوبی ایشیا کی سیاست کو سمجھنے کے لیے صرف موجودہ سیاسی حالات دیکھنا کافی نہیں بلکہ خطے کی تاریخ، معاشرتی ساخت اور ریاست اور عوام کے تعلق کو بھی دیکھنا پڑتا ہے ایک تازہ تجزیے میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں حکمران طویل عرصے تک اقتدار میں رہنے کے باوجود مستقل طور پر ایک مضبوط آمرانہ نظام کیوں قائم نہیں کرسکے، جبکہ مصر اور بعض خلیجی ممالک میں طویل حکمرانی نسبتاً زیادہ مستحکم رہی
پاکستان کی تاریخ میں فوجی حکمرانی کے کئی ادوار گزرے ہیں، لیکن فوجی حکومتوں نے بھی انتخابات، آئینی نظام اور جمہوری اداروں کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے کسی نہ کسی شکل میں ان کا سہارا لیا۔ پاکستان کے سابق فوجی حکمران ایوب خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف طویل عرصے تک اقتدار میں رہے، مگر ہر دور میں سیاسی مزاحمت، احتجاج اور اقتدار کی منتقلی کا سوال موجود رہا
اس کے مقابلے میں مصر میں انور سادات تقریباً 11 سال، حسنی مبارک تقریباً 30 سال اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی 12 سال سے اقتدار میں ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں بھی شاہی نظام اور تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی نے ریاستی نظام کو طویل عرصے تک نسبتاً مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے تاہم صرف تیل کی دولت ہی اس فرق کی مکمل وضاحت نہیں کرتی، کیونکہ ایران بھی تیل سے مالا مال ملک ہے لیکن وہاں 1979 میں ایک بڑی سیاسی انقلاب آیا اور اس کے بعد بھی ریاست اور عوام کے درمیان کشمکش مختلف شکلوں میں جاری رہی
جنوبی ایشیا میں عوامی سیاست کی ایک نمایاں خصوصیت مسلسل سیاسی بحث، احتجاج اور اختلاف رائے ہے بھارت میں اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے خلاف مزاحمت، پاکستان میں مختلف فوجی اور سیاسی حکومتوں کے خلاف احتجاج اور بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی طویل حکمرانی کے خلاف عوامی ردعمل اس خطے میں ریاستی اختیار کے خلاف سیاسی مزاحمت کی مختلف مثالیں ہیں
پاکستان میں بھی آزادی اظہار اور سیاسی اختلاف مکمل طور پر ختم نہیں ہوا صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو دباؤ اور پابندیوں کا سامنا ضرور رہا ہے، لیکن ٹیلی وژن، اخبارات، سوشل میڈیا اور عوامی اجتماعات کے ذریعے حکمرانوں پر تنقید کا سلسلہ مختلف ادوار میں جاری رہا یہی صورتحال جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک میں بھی مختلف شدت کے ساتھ دیکھی گئی ہے
اس کے برعکس میانمار کی تاریخ مختلف راستہ دکھاتی ہے وہاں فوج نے کئی دہائیوں تک سیاسی اقتدار پر اپنا مضبوط کنٹرول برقرار رکھا آنگ سان سوچی کی طویل نظر بندی اور بعد میں فوجی حکومت کی واپسی اس بات کی مثال ہے کہ بعض معاشروں میں فوجی نظام زیادہ دیر تک قائم رہ سکتا ہے تاہم وہاں بھی مزاحمت ختم نہیں ہوئی بلکہ حالیہ برسوں میں سیاسی کشمکش نے کئی علاقوں میں مسلح تنازع کی شکل اختیار کرلی
یہ فرق اس بنیادی سوال کو جنم دیتا ہے کہ مختلف معاشروں میں ریاست اور عوام کے درمیان تعلق ایک جیسا کیوں نہیں ہوتا آبادی، معاشی حالات، نوآبادیاتی تاریخ، فوج کا سیاسی کردار، مذہب، شہری معاشرہ، سیاسی جماعتیں، میڈیا اور عوامی احتجاج سمیت کئی عوامل اس فرق کو متاثر کرتے ہیں اس لیے پاکستان کا موازنہ صرف مشرق وسطیٰ سے کرنا کافی نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے تجربات کو بھی ساتھ دیکھنا ضروری ہے
پاکستان میں جمہوری نظام کئی کمزوریوں، سیاسی بحرانوں اور غیر جمہوری مداخلتوں کے باوجود مکمل طور پر ختم نہیں ہوا ملک میں بار بار انتخابات ہوئے، حکومتیں تبدیل ہوئیں اور مختلف سیاسی قوتوں نے اقتدار حاصل کیا تاہم سیاسی اداروں کی کمزوری، طاقت کے مراکز کے درمیان کشمکش اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی سیاسی بے یقینی اب بھی پاکستان کے ریاستی نظام کا اہم مسئلہ ہے
خطے کا تقابلی جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی ملک میں آمرانہ یا جمہوری نظام کی پائیداری صرف ایک شخص یا ایک ادارے کی طاقت سے طے نہیں ہوتی۔ اس کے پیچھے تاریخ، معاشرتی مزاج، معاشی ڈھانچے اور ریاستی اداروں کی طاقت سمیت کئی عوامل کام کرتے ہیں یہی وہ سوال ہے جس کا جواب جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف سیاسی تجربات کو ایک ساتھ دیکھ کر زیادہ بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے





