Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

جنید حفیظ کا 13 سالہ انتظار، الزام سے موت کی سزا تک اور پھر انصاف کی منتظر اپیل

جنید حفیظ کا 13 سالہ انتظار، الزام سے موت کی سزا تک اور پھر انصاف کی منتظر اپیل

پاکستان کے سابق یونیورسٹی استاد جنید حفیظ کو توہین مذہب کے الزام میں گرفتار ہوئے 13 سال گزر چکے ہیں، لیکن ان کی اپیل آج بھی لاہور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ 2013 میں گرفتاری کے وقت ان کی عمر 27 سال تھی، جبکہ آج وہ 40 سال کے ہوچکے ہیں اس طویل عرصے کے دوران ان کی زندگی کا بڑا حصہ جیل میں گزرا اور 2019 میں ماتحت عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی
جنید حفیظ نے اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان میں انگریزی ادب کے لیکچرر کی حیثیت سے کام شروع کیا تھا وہ شاعری بھی کرتے تھے اور اپنے طلبہ میں تنقیدی سوچ اور آزاد علمی تحقیق کو فروغ دینے کے لیے جانے جاتے تھے۔ 2013 میں ان کے بعض طلبہ نے ان پر توہین مذہب کے الزامات عائد کیے ان الزامات کے بعد یونیورسٹی میں مذہبی گروہوں کی جانب سے ان کے خلاف مہم شروع ہوئی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا
جنید حفیظ نے خطرے کے پیش نظر 13 مارچ 2013 کو ملتان چھوڑ کر لاہور جانے کی کوشش کی، لیکن لاہور پہنچنے کے فوراً بعد انہیں گرفتار کرکے واپس ملتان لایا گیا۔ ان کے خلاف مقدمہ اس سے پہلے ہی درج کیا جاچکا تھا پاکستان کے قانون میں توہین مذہب سے متعلق بعض دفعات قابل گرفتاری جرائم میں شامل ہیں، جس کے تحت پولیس مقدمہ درج ہونے کے بعد عدالتی وارنٹ کے بغیر بھی گرفتاری کرسکتی ہے
اس مقدمے میں جنید حفیظ کا دفاع کرنے والے وکیل رشید رحمان کو بھی شدید دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق انہیں عدالت میں مقدمے کی پیروی کے دوران دھمکی دی گئی تھی کہ وہ اگلی سماعت تک زندہ نہیں رہیں گے۔ 7 مئی 2014 کو رشید رحمان کو ان کے دفتر میں مسلح افراد نے قتل کردیا ان کے قتل کے بعد انسانی حقوق کے وکیل اسد جمال نے جنید حفیظ کا مقدمہ سنبھالا
2014 سے 2019 کے دوران مقدمہ متعدد مرتبہ مختلف ججوں کو منتقل ہوتا رہا۔ بالآخر دسمبر 2019 میں ملتان کی ایک سیشن عدالت نے جیل میں مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے جنید حفیظ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 295 اے، 295 بی اور 295 سی کے تحت مجرم قرار دے کر موت کی سزا سنائی دفاع کی جانب سے مقدمے میں ٹھوس شواہد اور عدالتی کارروائی کے طریقہ کار پر اعتراضات کیے گئے
موت کی سزا کے مقدمات میں ماتحت عدالت کا فیصلہ حتمی نہیں ہوتا موت کی سزا کی توثیق کے لیے مقدمہ ہائی کورٹ میں بھیجا جاتا ہے، جہاں عدالت شواہد کا دوبارہ جائزہ لیتی ہے جنید حفیظ کی اپیل 2020 میں دائر کی گئی، مگر 2026 تک اس پر حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ان کے وکیل سیف الملوک کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں بعد کے برسوں میں فیصلہ ہونے والے بعض مقدمات کی اپیلوں کی سماعت جاری ہے، جبکہ جنید حفیظ کا مقدمہ بار بار ملتوی ہوتا رہا ہے
طویل قید کے دوران ان کے وکیل اور اہل خانہ نے ان کی ذہنی حالت پر بھی تشویش ظاہر کی ہے انہیں انتہائی محدود جگہ میں رکھا جاتا ہے جہاں صفائی، تازہ ہوا، جسمانی سرگرمی اور انسانی رابطے کے مواقع محدود ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسداد تشدد سے متعلق کمیٹی نے بھی پاکستان میں توہین مذہب کے الزام میں قید بعض افراد کو طویل عرصے تک الگ تھلگ رکھنے کے معاملے پر تشویش ظاہر کی اور جنید حفیظ کے معاملے کا بھی ذکر کیا تھا
جنید حفیظ کے معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ الزام لگنے کے بعد نہ صرف ملزم بلکہ اس کے اہل خانہ، وکلا اور دیگر متعلقہ افراد کو بھی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے اسی وجہ سے ان کے مقدمے میں قانونی نمائندگی حاصل کرنا بھی مشکل رہا انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے موجودہ مطالبہ یہ ہے کہ ان کی اپیل کی آزادانہ، شفاف اور منصفانہ سماعت کی جائے اور انہیں قانون کے مطابق اپنا دفاع پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے
13 سال سے جاری یہ مقدمہ پاکستان کے نظام انصاف کے سامنے ایک بنیادی سوال بھی رکھتا ہے کہ کسی ایسے شخص کے بارے میں حتمی عدالتی فیصلہ کتنے عرصے میں ہونا چاہیے جس کی زندگی اور آزادی کا معاملہ عدالت کے سامنے زیر غور ہو جنید حفیظ کی اپیل ابھی بھی زیر سماعت ہے اور ان کی قسمت کا حتمی فیصلہ عدالت ہی کرے گی

قومی خبریں سے مزید