Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ستمبر کا معرکہ: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، حکومت کی للکار اور گرفتار بہنوں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا، جماعت اسلامی پھر دوڑ گئی

ستمبر کا معرکہ: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ، حکومت کی للکار اور گرفتار بہنوں نے سیاسی درجہ حرارت بڑھا دیا، جماعت اسلامی پھر دوڑ گئی

پاکستان کی سیاست میں ایک بار پھر سڑک، عدالت اور اقتدار کے درمیان ٹکراؤ کی فضا بن گئی ہے،تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان برقرار رکھتے ہوئے حکومت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ نہ تاریخ بدلے گی، نہ احتجاج کا فیصلہ واپس ہوگا، جبکہ وفاقی حکومت نے بھی دارالحکومت کو ممکنہ احتجاج سے محفوظ رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں، اورپورے شہر میں کنٹینرز کے کوہ ہمالہ کھڑے کردئیے ہیں
پشاور میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان اور دیگر رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت کو ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف احتجاج کے درمیان انتخاب کا پیغام دیا گیا،سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے اسمبلیوں، عدالتوں اور دیگر آئینی و قانونی فورمز سے رجوع کیا لیکن جب سیاسی راستے بند ہوں تو پرامن احتجاج ہی باقی رہ جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر کو پارٹی پوری قوت کے ساتھ مگر پرامن انداز میں اسلام آباد جائے گی
بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی یہی مؤقف اختیار کیا کہ تحریک انصاف دہشت گرد جماعت نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت ہے اور اسلام آباد آنے والوں کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک نہ کیوں کیا جائے،انہوں نے کہا کہ پارٹی عمران خان کے مقدمات، بشریٰ بی بی کے مقدمات، ملاقاتوں اور قید سے متعلق اپنے مطالبات کے لیے سیاسی و قانونی راستے اختیار کرتی رہی ہے،ان کے مطابق تحریک انصاف نے ہائی کورٹ سے 25 اور سپریم کورٹ سے 19 مرتبہ رجوع کیا
اس سیاسی کشیدگی کا سب سے حساس پہلو عمران خان کے خاندان کی گرفتاریوں کا ہے،20 ستمبر کو علیمہ خان کو لاہور میں 30 روز کے لیے ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا، جبکہ اس کے اگلے روز ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیاز ی کو بھی 30 روز کے لیے حراست میں لے لیا گیا،یوں عمران خان کی تین بہنیں اس وقت زیرحراست ہیں،حکومت کی جانب سے ان کارروائیوں کی بنیاد امن عامہ اور عوامی تحفظ کے خدشات بتائی گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف انہیں سیاسی دباؤ قرار دے رہی ہے
بشریٰ بی بی بھی جیل میں ہیں، اسی لیے بیرسٹر گوہر نے عمران خان کے گھر کی چار خواتین کے جیل میں ہونے کا ذکر کیا،تاہم موجودہ تازہ گرفتاریوں میں تین بہنیں شامل ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی پہلے سے قید ہیں،ستمبر میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات بھی ہوئی تھی
دوسری طرف وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی لہجہ نرم رکھنے کے بجائے واضح کر دیا ہے کہ حکومت اسلام آباد کو کئی روز تک احتجاج کے باعث بند رکھنے کی اجازت نہیں دے گی اور ممکنہ مارچ سے نمٹنے کے لیے مستقل حکمت عملی اختیار کی جائے گی،حکومت نے دارالحکومت کے اہم راستوں پر کنٹینرز اور اضافی سکیورٹی انتظامات شروع کر دیے ہیں، جبکہ 27 ستمبر کے لیے بڑی تعداد میں پولیس نفری بھی اسلام آباد منتقل کیے جانے کی اطلاعات ہیں
سہیل آفریدی نے محسن نقوی کے اس سخت لہجے کا جواب دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پاکستان کسی کے باپ کی ملکیت نہیں اور تحریک انصاف کو سیاسی احتجاج سے روکنے کا جواز کیا ہے؟ ان کے خطاب میں یہ پیغام نمایاں تھا کہ حکومت اگر تصادم کا راستہ اختیار کرتی ہے تو تحریک انصاف پیچھے نہیں ہٹے گی،اسی طرح انہوں نے حالیہ گرفتاریوں اور صوبائی وزرا سے متعلق واقعات کو 27 ستمبر کی تحریک کو دبانے کی کوشش قرار دیا،
پی ٹی آئی قیادت نے یہ بھی کہا کہ اسلام آباد میں داخل ہونے کا مقصد شہر کو بند یا میدان جنگ بنانا نہیں بلکہ پرامن سیاسی احتجاج کرنا ہے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسلام آباد پہنچنے پر پاکستان کے پرچم ہوں گے اور پارٹی کارکن اپنے سیاسی مطالبات کے ساتھ موجود ہوں گے
اس پوری صورتحال میں ایک دلچسپ سیاسی پہلو جماعت اسلامی کا بھی ہے،جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف حکومت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور احتجاجی پروگرام کو فوری طور پر اسلام آباد کی طرف لے جانے کے بجائے حکومت کو وقت دینے کا فیصلہ کیاہے ، تازہ اطلاعات کے مطابق جماعت اسلامی نے اپنے آئندہ احتجاجی لائحۂ عمل کو اکتوبر کے پہلے ہفتے تک موخر کیا ہے، اور کہا امیر جماعت اسلامی پہلے وزیراعظم سے ملاقات کریں گے اور انکی طرف سے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں لانگ مارچ ہوگا ، ملک کے تجزیہ نگار جماعت اسلامی کے اس اقدام پر تعجب کا اظہار کرنے کی بجائے کہہ رہے ہیں “ بی ٹیم سے جتنا کام لینا تھا لے لیا گیا، جبکہ عوامی سطح پر سوشل میڈیا پر جماعت کے دعوی بیانوں اور للکاروں کا تمسخر اڑایا جارہا ہے
یوں ایک ہی وقت میں اپوزیشن کی دو مختلف حکمت عملیاں سامنے آ گئی ہیں،تحریک انصاف 27 ستمبر کو براہ راست اسلام آباد کی طرف جانے پر بضد ہے، جبکہ جماعت اسلامی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے کی کوشش کر رہی ہے،یہی فرق سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں جماعت اسلامی کی حکمت عملی پر بحث کا سبب بھی بنا ہے
اب اصل سوال یہ ہے کہ اگلے پانچ دن میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کوئی سیاسی راستہ نکلتا ہے یا ملک ایک نئے تصادم کی طرف جاتا ہے،تازہ رپورٹس کے مطابق دونوں جانب رابطے ہوئے ہیں، مگر اعتماد کا فقدان برقرار ہے،حکومت مبینہ طور پر احتجاج واپس لینے کی صورت میں بعض سہولتوں پر غور کر رہی ہے جبکہ تحریک انصاف 27 ستمبر کی کال واپس لینے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہی
چنانچہ 27 ستمبر اب محض ایک سیاسی جلسے یا لانگ مارچ کی تاریخ نہیں رہی،عمران خان کی مسلسل قید، ان کی اہلیہ اور تین بہنوں کی موجودہ حراست، پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں، اسلام آباد کی سکیورٹی تیاریوں اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد نے اسے پاکستان کی موجودہ سیاسی کشمکش کا مرکزی امتحان بنا دیا ہے،آنے والے دنوں میں اصل امتحان دونوں فریقوں کے لیے یہی ہوگا کہ احتجاج کا آئینی حق اور ریاست کی امن و امان کی ذمہ داری تصادم کے بجائے سیاسی حل کی طرف کیسے لے جائی جاتی ہے

قومی خبریں سے مزید