دنیا کے فیصلوں کی میز پر اقوام متحدہ، مگر اختیار کہاں ہے؟ جنگوں کے بیچ عالمی ادارے کی طاقت، کمزوری اور عوامی اعتماد کا چونکا دینے والا سوال
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا نیا اجلاس ایسے وقت شروع ہو رہا ہے جب دنیا بیک وقت مشرق وسطیٰ، یوکرین اور دیگر تنازعات میں الجھی ہوئی ہے، مصنوعی ذہانت نئی عالمی سلامتی کا مسئلہ بن رہی ہے اور خود اقوام متحدہ مالی و سیاسی دباؤ کا شکار ہے,تقریباً 130 سربراہانِ مملکت کی موجودگی کے باوجود بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اقوام متحدہ آج بھی دنیا کے بڑے بحرانوں کو روکنے یا حل کرنے کی طاقت رکھتا ہے، یا وہ عالمی طاقتوں کے اختلافات کا آئینہ بن کر رہ گیا ہے؟
اقوام متحدہ کی موجودہ حیثیت کو سمجھنے کے لیے جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل میں فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے,جنرل اسمبلی میں تمام 193 رکن ممالک کو اپنی آواز رکھنے کا موقع ملتا ہے، لیکن اس کے بیشتر فیصلے سیاسی اور اخلاقی وزن رکھتے ہیں، براہ راست وہ قانونی طاقت نہیں رکھتے جو سلامتی کونسل کے بعض فیصلوں کو حاصل ہے,اصل مشکل وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں عالمی طاقتوں کے مفادات براہ راست ٹکراتے ہیں، کیونکہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان، امریکہ، روس، چین، برطانیہ اور فرانس، ویٹو کا اختیار رکھتے ہیں
یہی وہ مرحلہ ہے جہاں آج اقوام متحدہ کی سب سے بڑی کمزوری سامنے آتی ہے،2024 میں سلامتی کونسل میں 7 مسودہ قراردادیں ویٹو ہوئیں، جو 1986 کے بعد سب سے زیادہ تعداد تھی،2025 میں مزید 4 ویٹو ہوئے، جن میں غزہ سے متعلق 2 امریکی اور یوکرین سے متعلق 2 روسی ویٹو شامل تھے،2026 کے وسط تک یوکرین، فلسطینی مسئلے، میانمار اور سوڈان جیسے انتہائی حساس معاملات پر کونسل کی کارروائی بھی محدود رہی
اسی بنیاد پر 2026 کی ایک حالیہ علمی تحقیق نے یوکرین اور غزہ کو اقوام متحدہ کی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کی اہم آزمائش قرار دیتے ہوئے نتیجہ نکالا کہ مستقل ارکان کا ویٹو، جب ان کے اپنے جغرافیائی یا سیاسی مفادات بحران سے وابستہ ہوں، فیصلہ سازی کو مفلوج کر سکتا ہے
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے،بین الاقوامی تعلقات کے ماہر رچرڈ گوون کے 2026 کے تجزیے کے مطابق سلامتی کونسل یوکرین اور غزہ جیسے بڑے بحرانوں میں مؤثر کارروائی نہ کر سکنے کے باعث غیر متعلق ہونے کے الزامات کا سامنا ضرور کر رہی ہے، لیکن پس پردہ کئی دوسرے بحرانوں میں سفارتی رابطوں کا ایک اہم فورم اب بھی موجود ہے،ان کے مطابق بڑی طاقتیں، اختلافات کے باوجود، اقوام متحدہ کو مکمل طور پر بے فائدہ ادارہ نہیں سمجھتیں
اصل تضاد شاید یہی ہے،اقوام متحدہ جنگ روکنے میں اکثر کمزور دکھائی دیتا ہے، لیکن جنگ کے بعد یا جنگ کے درمیان انسانی زندگی بچانے میں اب بھی انتہائی اہم ہے
2024 میں اقوام متحدہ کے نظام نے تقریباً 25 ارب ڈالر کی انسانی امداد متحرک کرکے 77 ممالک اور خطوں میں 116 ملین افراد تک امداد پہنچانے میں مدد کی،اس کے ذیلی ادارے خوراک، پناہ گزینوں، بچوں، صحت اور ہنگامی امداد کے شعبوں میں ایسی عالمی سطح کی رسائی رکھتے ہیں جس کا کوئی متبادل ادارہ موجود نہیں
اسی طرح اقوام متحدہ کی امن فوج کو مکمل ناکامی قرار دینا بھی اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا،اقوام متحدہ کی اپنی 2026 کی تحقیق میں شامل علمی مطالعات کے مطابق 1960 سے 2017 کے درمیان مکمل ہونے والے 18 کثیرالجہتی امن مشنز میں سے 12 نے اپنے بڑے اہداف حاصل کیے، جبکہ تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ مناسب حالات میں امن فوج خانہ جنگیوں میں تشدد، نقل مکانی اور شہری ہلاکتیں کم کرنے میں مؤثر رہی ہے،تاہم اس کامیابی کا ایک بڑا انحصار میزبان ملک کے تعاون پر ہوتا ہے
مسئلہ یہ ہے کہ آج اقوام متحدہ کو ایک طرف دنیا کے بحران پہلے سے زیادہ مل رہے ہیں اور دوسری طرف اس کے پاس وسائل کم ہو رہے ہیں،2025 میں UNHCR نے 129.4 ملین بے گھر یا بے وطن افراد کی مدد کا ہدف رکھا، مگر دستیاب فنڈنگ صرف 37 فیصد ضروریات پوری کر سکی،ادارے کو اپنے عملے میں بھی 6,600 سے زیادہ کمی کرنا پڑی
امریکی مالی تعاون میں کمی نے اس بحران کو مزید نمایاں کیا ہے،اگرچہ امریکہ اب بھی اقوام متحدہ کا سب سے بڑا مالی معاون ہے، ٹرمپ انتظامیہ نے ادائیگیوں اور متعدد عالمی اداروں میں امریکی شمولیت پر کٹوتیوں اور نظرثانی کی پالیسی اپنائی ہے،ستمبر 2026 میں واشنگٹن نے 725 ملین ڈالر ادا کرکے اپنے بقایاجات کا ایک حصہ کم کیا، لیکن اس کے باوجود باقاعدہ بجٹ میں امریکہ کے 1.312 ارب ڈالر واجب الادا تھے،اقوام متحدہ اسی مالی بحران سے نمٹنے کے لیے UN80 اصلاحاتی پروگرام چلا رہا ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ عوام کا تاثر اقوام متحدہ کی سیاسی کمزوری کے مقابلے میں زیادہ مثبت ہے،گیلپ کے 2025 کے 137 ممالک کے سروے کے مطابق اوسطاً 50 فیصد بالغ افراد نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنا کام اچھا کر رہا ہے، جبکہ 26 فیصد نے اس کی کارکردگی کو ناپسند کیا،67 ممالک میں اکثریت نے اقوام متحدہ کی کارکردگی کی حمایت کی
امریکہ میں صورت حال زیادہ پیچیدہ ہے،گیلپ کے 2025 سروے میں 60 فیصد امریکیوں نے کہا کہ اقوام متحدہ آج کی دنیا میں ایک ضروری ادارہ ہے اور 79 فیصد نے کہا کہ امریکہ کو اقوام متحدہ کا رکن رہنا چاہیے، لیکن صرف 32 فیصد نے کہا کہ اقوام متحدہ عالمی مسائل حل کرنے میں اچھا کام کر رہا ہے، جبکہ 63 فیصد نے اس کی کارکردگی کو خراب قرار دیا،یعنی عوام ادارے کی ضرورت اور اس کی موجودہ کارکردگی میں واضح فرق محسوس کرتے ہیں
یہی شاید آج اقوام متحدہ کی اصل کہانی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا کو اقوام متحدہ کی ضرورت ختم ہوگئی ہے، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کی طاقت کا نظام 1945 کے مقابلے میں بدل چکا ہے، مگر اقوام متحدہ کا بنیادی طاقت کا ڈھانچہ بڑی حد تک وہیں کھڑا ہے،سلامتی کونسل میں پانچ مستقل طاقتوں کا خصوصی اختیار اس دور میں زیادہ متنازعہ دکھائی دیتا ہے جب عالمی طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ مقابلے میں ہیں،2026 کی Security Council Report تحقیق بھی ویٹو کو موجودہ نظام کی سب سے بڑی ساختی مشکلات میں شمار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ قریبی مدت میں اقوام متحدہ کے چارٹر میں ترمیم کے ذریعے بنیادی ویٹو اصلاح کا امکان محدود ہے
اس کے باوجود نیویارک میں عالمی رہنماؤں کا ہر سال اکٹھا ہونا محض ایک رسمی تقریب نہیں،جنرل اسمبلی عالمی طاقتوں کو ایک ہی جگہ لا کر کھلے بیانات، بند کمرے کی سفارت کاری، دوطرفہ ملاقاتوں اور ممکنہ سمجھوتوں کا ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے جو کسی ایک طاقت کے زیر کنٹرول نہیں،موجودہ اجلاس میں ٹرمپ کی واپسی، یوکرین اور مشرق وسطیٰ کی جنگیں، مصنوعی ذہانت اور اقوام متحدہ کے مستقبل پر بحث اسی وسیع سفارتی عمل کا حصہ ہیں
یوں اقوام متحدہ کی موجودہ حیثیت کو نہ مکمل ناکامی کہا جا سکتا ہے، نہ دنیا کی فیصلہ کن طاقت،وہ جنگوں کو روکنے میں اس وقت سب سے زیادہ کمزور نظر آتا ہے جب جنگ کرنے والی طاقتیں خود سلامتی کونسل کی میز پر بیٹھی ہوں، لیکن وہ انسانی امداد، پناہ گزینوں، امن مشنز، عالمی اصولوں اور سفارتی رابطوں میں اب بھی ناگزیر کردار ادا کر رہا ہے
اور شاید سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ اقوام متحدہ ختم ہو رہا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا 21ویں صدی کی بدلتی ہوئی طاقتوں کے لیے 1945 کا بنایا ہوا ادارہ خود کو تبدیل کر پائے گا؟ کیونکہ اگر دنیا کی جنگیں بدل گئی ہیں، طاقت کا توازن بدل گیا ہے اور مصنوعی ذہانت جیسے نئے خطرات سامنے آ گئے ہیں، تو اقوام متحدہ کے سامنے اصل امتحان اس اجلاس کی تقریریں نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی پرانی ساخت کو نئی دنیا کے مطابق کتنا بدل سکتا ہے





